شام میں موجود ایران کے ''فوجی مشیر'' آن لائن فوٹیج میں نمودار

حکومت نواز شامی جنگجوؤں کو ایران میں تربیت دی جا رہی ہے: برطانوی اخبار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

انٹرنیٹ پر اسی ہفتے منظرعام پر آنے والی ایک ویڈیو میں شام میں جاری خانہ جنگی میں ایران کے فوجی اہلکاروں کے ملوث ہونے کا ثبوت سامنے آیا ہے.

ویڈیو شراکت کی ویب سائٹ یو ٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی فوٹیج میں فوجی وردی میں ملبوس پانچ ایرانیوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پاسداران انقلاب ایران کی القدس فورس سے تعلق رکھتے ہیں.

یہ فوٹیج گذشتہ جمعہ کو ڈچ ٹیلی ویژن نیٹ ورک این اوایس نے نشر کی تھی اور ان کے درمیان ہونے والی گفتگو سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ شام کے شمالی شہر حلب میں کہیں موجود ہیں۔ نیویارک ٹائمز میں اتوار کو شائع شدہ رپورٹ کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والے ایرانیوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ فوجی مشیران ہیں۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حکومت نواز شامی جنگجوؤں کو ایران میں تربیت دے جارہی ہے۔

اس ویڈیو کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ شامی حزب اختلاف کے جنگجوؤں نے اپ لوڈ کی ہوگی۔ باغیوں کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو ٹیپس ایک ایرانی کیمرامین کی تھیں جو لڑائی میں مارا گیا ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپ لوڈ کی گئی فوٹیج سے ظاہر ہوتا ہے ایرانی اور دوسرے جنگجو کسی اسکول کی عمارت میں موجود ہیں اور ایرانی بڑی تعداد میں ہوسکتے ہیں کیونکہ اس عمارت کی دیواروں پر عربی اور فارسی زبان میں الگ الگ نوٹس آویزاں ہیں۔

اس ویڈیو کو فلماتے ہوئے کیمرامین زمین پر گرجاتا ہے اور پھر اندھیرا چھا جاتا ہے اور اس کا منظر بالکل سیاہ ہوجاتا ہے۔ پس منظر میں گولیوں کی تڑتڑاہٹ کی آواز سنی جاسکتی ہے اور اسی موقع پر شاید یہ فلم بنانے والے کیمرامین کی موت واقع ہوگئی تھی

برطانوی روزنامے دی انڈی پینڈینٹ میں شائع شدہ ایک اور رپورٹ کے مطابق ایران نے گذشتہ جون میں شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں باغیوں سے لڑنے کے لیے پاسداران انقلاب کے چار ہزار اہلکار بھیجے تھے۔

قبل ازیں شام کے باغی جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحرنے اگست 2012ء میں اڑتالیس زائرین کو اغوا کرلیا تھا۔ جیش الحر کے براء بریگیڈ نے تب دعویٰ کیا تھا کہ یرغمال بنائے گئے ایرانی زائرین نہیں ہیں، بلکہ پاسداران انقلاب کے اہلکار ہیں اور وہ دمشق میں نگرانی کے مشن پر تھے۔

جیش الحر نے یرغمال بنائے گئے اڑتالیس ایرانیوں کی ایک ویڈیو جاری کی تھی جو العربیہ ٹی وی پر5 اگست 2012ء کو نشر کی گئی تھی۔ ویڈیو میں ان کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ ایران کی شبیحہ (ملیشیا) کے ارکان ہیں۔

ویڈیو میں جیش الحر کے ایک افسر نے دعویٰ کیا تھا کہ ''گرفتار کیے گئے ایرانی زائرین سے تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان میں سے بعض پاسداران انقلاب کے افسر ہیں''۔ ویڈیو میں ایک ایرانی سے برآمد شدہ شناختی دستاویزات بھی دکھائی گئی تھیں۔ باغی جنگجوؤں نے جنوری میں ان اڑتالیس ایرانی یرغمالیوں کو رہا کردیا تھا۔

ایران کے سرکاری ٹی وی نے اطلاع دی تھی کہ ان ایرانیوں کو شامی حکومت کے زیر حراست حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے دو ہزار ایک سو تیس افراد کے تبادلے میں رہا کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں