شام میں کیمیائی حملے کے واضح اور متاثرکن ثبوت ہیں: یو این رپورٹ

معائنہ کاروں کا کسی ایک فریق کو حملے کا ذمے دار ٹھہرانے سے گریز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کا کہنا ہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے میں گذشتہ ماہ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے واضح اور متاثرکن ثبوت ملے ہیں۔

عالمی ادارے کے معائنہ کاروں نے سیکرٹری جنرل بین کی مون کو پیش کردہ اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ''ہم نے جو ماحولیاتی ،کیمیائی اور طبی نمونے اکٹھے کیے تھے، ان سے یہ واضح اور متاثرکن شہادت ملی ہے کہ 21 اگست کو دمشق کے علاقے غوطہ میں زمین سے زمین پر مار کرنے والے راکٹوں کے حملے میں اعصاب شکن گیس سیرن استعمال کی گئی تھی''.

اس رپورٹ میں عین طرمہ ،معظمیہ اور زمالکہ کے علاقوں میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ''عرب جمہوریہ شام میں جاری تنازعے کے فریقوں نے بچوں اور خواتین سمیت شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے''۔ تاہم جیسا کہ پہلے سے خیال کیا جارہا تھا، اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کیمیائی ہتھیار کس فریق نے استعمال کیے ہیں۔

بین کی مون آج سوموار کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یہ رپورٹ پیش کرنے والے ہیں۔سویڈن سے تعلق رکھنے والے ماہر آکے سیل اسٹارم کی قیادت میں عالمی معائنہ کاروں نے شام سے نمونے اکٹھے کرنے کے بعد یہ رپورٹ مرتب کی ہے۔

شامی حزب اختلاف اور اس کے مغربی اور عرب حمایتی ممالک صدر بشارالاسد کی حکومت پر اس حملے کا الزام عاید کرتے چلے آرہے ہیں لیکن شامی حکومت نے اس الزام کی تردید کی ہے اور الٹا شامی حزب اختلاف کو واقعے کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔

اس رپورٹ کے منظرعام پر آنے سے دو روزپہلے ہی امریکا اور روس کے درمیان شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو آیندہ سال کے وسط تک ٹھکانے لگانےکے لیے ایک سمجھوتا طے پاگیا ہے لیکن اس کے باوجود امریکی وزیرخارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ ''شام کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کا حقیقی امکان بدستور موجود ہے اور یہ دھمکی حقیقی ہے''۔

دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان طے پائے سمجھوتے کے تحت شامی صدر بشارالاسد ایک ہفتے کے اندر اپنے کیمیائی ہتھیاروں اور ان کی جگہوں سے متعلق تفصیل سے آگاہ کرنے کے پابند ہیں۔ اس کے بعد شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو آیندہ سال کے وسط تک عالمی کنٹرول میں دے دیا جائے گا۔اگر دمشق حکومت اس پر عمل درآمد میں ناکام رہتی ہے تو پھر اس کے خلاف پابندیاں عاید کردی جائیں گی لیکن اس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان پابندیوں کی کیا نوعیت ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں