شامی نامزد وزیراعظم کا القاعدہ کیخلاف کارروائی کا عندیہ

بشار رجیم کی بعد جگہ لینے کیلیے القاعدہ جنگجووں کا خاتمہ ضروری ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی حزب اختلاف کے نامزد کردہ عبوری سربراہ حکومت اور اعتدال پسند اسلامی رہنما احمد صالح طمعۃ نے کہا ہے بشار الاسد رجیم کے اقتدار کے بعد خلا کو پر کرنے کے لیے شام میں لڑنے والے القاعدہ عسکریت پسندوں کے اثرات کا خاتمہ ضروری ہے۔

احمد طمعۃ نے اپنی نامزدگی کے بعد پہلے انٹرویو میں کہا '' حزب اختلاف کو نظریاتی حوالے سے القاعدہ کی مزاحمت کرتے ہوئے موثر انداز میں یہ موقف سامنے لانا ہو گا کہ جمہوریت اسلام سے متصادم نہیں ہے۔''

انہوں نے اس امر کی بھی تردید کی ہے کہ شام میں القاعدہ کی عوامی سطح پر مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نامزد عبوری وزیر اعظم احمد صالح نے کہا بشار رجیم کی طرف سے تباہی، قتل و غارتگری اور بے گھر کیے جانے کی صعوبتوں کے بعد اہل شام عسکریت پسندوں کے رویے کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔'' انہوں نے واضح کیا لوگوں میں آزادی کی تڑپ ہے نہ کہ ایک جابرانہ دور کی ۔''

رواداری اور برداشت کا پرچار کرنے والے احمد صالح طمعۃ ایک طویل سیاسی کیرئیر رکھنے کے علاوہ جیل میں بھی رہ چکے ہیں۔ وہ القاعدہ کو آڑے ہاتھوں لینے والے اپوزیشن کے اہم ترین رہنما ہیں۔

انہیں عبوری سربراہ حکومت کے طور پر باغیوں کے علاقوں میں نظم قائم کرنے میں القاعدہ کی مخالفت کا سامنا کرنا ہو گا، کیونکہ ان علاقوں میں القاعدہ کے عسکریت پسند حامیوں کی معنی خیز موجودگی ہے۔

تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ طمعۃ حزب اختلاف کی ساکھ کو با معنی رخ دے سکیں گے یا نہیں۔ خصوصا جب شام میں اڑھائی برس سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر امریکا اور روس کے درمیان سفارتی عمل بھی جاری ہے۔

واضح رہے احمد صالح طمعۃ کو حزب اختلاف کے سعودی حمایت یافتہ عبوری صدر احمد الجربا کی مدد بھی حاصل نہیں ہے۔ احمد صالح طمعۃ کو عبوری وزارت عظمی کے لیے نامزد کرنے میں شام کی اپوزیشن میں قطر کے حامی عنصر کا کردار ہے۔

دوسری جانب القاعدہ کے حامی گروہ جمہوریت کو مسترد کر کے اسلامی خلافت لانے کے حق میں ہے لیکن یہ بات شامی اپوزیشن میں ایک'' ٹیبو'' کی شکل اختیار کیے ہوئے ہے۔

شام کے مشرقی صوبے کا دارالحکومت راقا اس سال کے آغاز سے ہی القاعدہ کے حامی گروپ اپنے کنٹرول میں لے چکے ہیں۔ اسی طرح ہمسائے صوبہ حلب سے متصل قصبوں کے علاوہ ادلیب پر بھی القاعدہ کے گروپوں کا قبضہ ہے۔

عراقی سرحد پر واقع نامزد عبوری وزیر اعظم احمد صالح کے شہر دیر الزور میں گزشتہ ہفتے القاعدہ کے حامیوں اور آزاد شامی فوج کے درمیان جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔

احمد صالح کا کہنا ہے ''اپوزیشن کو القاعدہ کے حوالے ایک نظریاتی مسلے کا سامنا ہے، اگر وہ انکار کریں گے تو ہم شام کے شہریوں کی زندگی اور سلامتی کے لیے ہر اقدام کرنا ہو گا۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں