مصر: اخوان المسلمون کے قائدین کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم

اسلامی جماعت کے مرشد عام، دونوں نائبین اور معروف سلفی عالم دین کے اثاثے منجمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

مصر کی ایک عدالت نے اخوان المسلمون کے قائدین اور حکومت مخالف دو معروف علمائے دین کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ مسلح افواج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت کے اسلامی جماعت کے خلاف کریک ڈاؤن کے حصے کے طور پر جاری کیا ہے۔

حکام کے مطابق عدالت نے اخوان المسلمون کے جن قائدین کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا ہے، ان میں مرشد عام محمد بدیع، ان کے دو نائبین خیرات الشاطر اور رشاد بایومی، سلفی عالم دین حازم ابواسماعیل اور معروف مبلغ صفوت حجازی شامل ہیں۔

مصری حکام نے گذشتہ ہفتے برطرف صدر محمد مرسی اور ان کے خاندان کے اثاثوں کی بھی تحقیقات شروع کی تھی۔ مصر کے پراسیکیوٹر جنرل نے انسداد بدعنوانی کے لیے کام کرنے والی تنظیم کے سربراہ کی جانب سے دائر کردہ ایک درخواست کے بعد ڈاکٹر مرسی کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

اس رپورٹ میں ڈاکٹر محمد مرسی پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ انھوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اپنے عہدوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مبینہ طور پر ساڑھے اٹھائیس کروڑ ڈالرز کی رقم خردبرد کر لی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں