کویت میں نمی اور گرد سے محفوظ پلاسٹک کے کرنسی نوٹ متعارف

برطانیہ کا پاؤنڈ پلاسٹک کرنسی میں تبدیل کرنے پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

خلیجی ریاست کویت کی حکومت نے "پولیم" مواد کے استعمال سے پلاسٹک کے کرنسی نوٹ متعارف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے کرنسی نوٹ گرمی، رطوبت اور گرد کو برداشت کرنے کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ زیادہ عرصے تک قابل استعمال ہوں گے۔

برطانوی اخبار"فنانشیل ٹائمز" کے مطابق کویت نے پلاسٹک کی کرنسی تیار کرنے کا تجربہ کینیڈا، آسٹریلیا اور بعض دیگر ملکوں سے سیکھا ہے کیونکہ ان ملکوں میں بھی پولیمر کے ذریعے پلاسٹک کی کرنسی تیار کی جاتی ہے۔ آسٹریلیا نے آج سے پچیس سال پیشتر پلاسٹک کی کرنسی متعارف کرائی تھی، جسے بعض دوسرے ممالک نے بھی اپنایا۔

برطانیہ کے سینٹرل بنک نے بھی پاؤنڈز کے موجودہ کاغذی نوٹوں کے متبادل پلاسٹک کے کرنسی نوٹ تیار کرنے پرغور شروع کیا ہے۔ مرکزی بنک نے مختلف مالیت کے پاؤنڈز کے پلاسٹک نوٹوں کے نمونے تیار کر کے عوام سے ان پر رائے طلب کی ہے۔

برطانوی سینٹرل بنک کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کرنسی نوٹ کئی اعتبار سے مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ پلاسٹک کے جعلی کرنسی نوٹ تیار کرنا مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ یہ کاغذی نوٹوں کے مقابلے میں دیر پا ثابت ہوں گے۔ نیز ان کی تیاری پر بھی کاغذی نوٹ کے مقابلے میں بہت کم خرچ آئے گا۔ مرکزی بنک کا کہنا ہے کہ وہ سنہ 2016ء کے بعد بتدریج پاؤنڈز کے تمام کرنسی نوٹوں کو پلاسٹک میں تبدیل کرنا شروع کر دے گا۔

کویتی اخبار" الرائے" کی رپورٹ کے مطابق پلاسٹک کی کرنسی کی طباعت کے لیے مرکزی بنک نے پرنٹنگ کمپنی "دی لارو" سے معاہدہ کرلیا ہے جو جلد ہی پلاسٹک کے کرنسی نوٹ تیار کرنا شروع کردے گی۔ خیال رہے کہ کویت پلاسٹک کی کرنسی متعارف کرانے والی پہلی خلیجی ریاست ہے۔ امکان ہے کہ کویت کے تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے دیگر خلیجی ملک بھی اس بارے میں غور کرسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں