''مغرب شامی عوام پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا ہے''

بشارالاسد شامی عوام کے قانونی، آئینی اور منتخب صدر ہیں: وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی وزارت خارجہ نے مغربی طاقتوں پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ شامی عوام پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

وزارت خارجہ نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''امریکا، برطانیہ اور فرانس نے اپنا حقیقی مقصد ظاہر کردیا ہے اور وہ شامی عوام پر اپنی مرضی مسلط کرنا ہے''۔

بیان میں ''مغربی ممالک کی جانب سے القاعدہ سے وابستہ دہشت گرد گروپ النصرۃ محاذ کی حمایت کرنے پر مذمت کی گئی ہے''۔ شامی وزارت خارجہ کا یہ بیان امریکا، برطانیہ اور فرانس کے وزرائے خارجہ کے درمیان شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو آیندہ سال کے دوران ٹھکانے لگانے سے متعلق جنیوا میں طے پائے سمجھوتے پر عمل درآمد کے لیے اتفاق رائے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔

ان تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے پیرس میں سوموار کو ملاقات میں شامی صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف محاذ آراء باغی جنگجوؤں کی امداد میں اضافے سے اتفاق کیا تھا اور کہا تھا: ''اگر بشارالاسد شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو اقوام متحدہ کی مجوزہ قرارداد کے تحت بین الاقوامی کنٹرول میں نہیں دیتے تو پھر انھیں مضمرات کا سامنا کرنا پڑے گا''۔

فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابیئس اور برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ سے شام پر تبادلہ خیال کے بعد امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے کہا کہ ''اتحادیوں نے شامی حزب اختلاف کی امداد کا عزم کررکھا ہے اور بشارالاسد اپنے ملک پر حق حکمرانی کھو چکے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم نے یہاں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہمارے درمیان (جنیوا میں) جو سمجھوتا طے پایا ہے، اس کو اقوام متحدہ کی قرارداد کی شکل میں عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ یہ بہت سخت ہوگی، حقیقی اور شفاف ہوگی۔ یہ بروقت ہوگی اور اس کا نفاذ کیا جائے گا''۔ ان کا کہنا تھا کہ ''اگر اسد رجیم کو یہ یقین ہے کہ یہ قابل نفاذ نہیں ہے یا ہم سنجیدہ نہیں تو پھر وہ ایک گیم کھیل رہے ہوں گے''۔

امریکی وزیرخارجہ اور ان کے ہم نواؤں کے اس اتفاق کے ردعمل میں شامی وزارت خارجہ نے کہا کہ ''امریکا اور اس کے اتحادیوں کا یہ دعویٰ کہ وہ شام میں جاری بحران کا سیاسی حل چاہتے ہیں، ان کی ان غیر مختتم کوششوں کے منافی ہے جو وہ اپنی شرائط مسلط کرنے کے لیے کررہے ہیں اور شام میں دہشت گردی اور تشدد پر عمل پیرا گروپوں کی حمایت کررہے ہیں''۔

''صدر بشارالاسد شام کے قانونی صدر ہیں، انھیں شامی عوام نے منتخب کیا تھا اور جب تک شامی عوام انھیں چاہیں گے، وہ صدارت کے منصب پر فائز رہیں گے۔ وہ آئین کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور اس آئین کی شامی عوام ہی نے منظوری دی تھی''۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں