اخوان المسلمون مصر کے ترجمان جہاد الحداد گرفتار

نوجوان رہنما سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر سرگرم تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مصری حکام نے منگل کے روز اخوان المسلمون کے ترجمان جہاد الحداد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اسلام پسند صدر محمد مرسی کو معزول کئے جانے کے بعد ہونے والے کریک ڈائون میں جہاد الحداد کو گرفتار کرنے کے لئے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے تھے مگر حداد پولیس کی گرفت سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

جہاد سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر اپنی تنظیم کی ترجمانی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ مگر حال ہی میں مصری پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے قاہرہ کے ایک اپارٹمنٹ پر چھاپہ مار کر جہاد الحداد اور دوسرے اسلام پسند رہنمائوں جن میں قلیوبیہ کے سابق گورنر حسام ابوبکر بھی شامل ہیں، کو گرفتار کر لیا ہے۔ انہیں قاہرہ کے مضافاتی علاقے نصر سٹی میں گرفتار کیا گیا ہے جہاں پر مرسی کے حامیوں نے ان کی بحالی کی خاطر کئی ہفتوں تک احتجاج کیا تھا۔

یہ وہی مقام ہے جہاں پر اگست کے دوران مصری حکام نے طاقت کے زور پر مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی تھی، جس کے نتیجے میں صدر مرسی کے حامیوں کے ساتھ تصادم میں سینکڑوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

صدر مرسی کی جولائی میں معزولی کے بعد مصری حکام نے اخوان المسلمون کے کارکنان کی گرفتاری کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا، جس میں انہوں نے اخوان کے 2000 سے زائد کارکنان اور رہنما حراست میں لے لئے تھے۔ اخوان کے مرشد عام محمد بدیع اور سخت گیر مفتی صفوت حجازی بھی جیل میں ہیں اور مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

اس کارروائی کے ساتھ ساتھ ایک مصری عدالت نے اخوان المسلمون کے سینئر رہنمائوں محمد بدی ان کے نائبین خیرت الشاطر اور راشد بیومی اور اس کے علاوہ سلفی رہنما حازم ابو اسماعیل اور مبلغ صفوت حجازی کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس کے علاوہ مصری فوج کی حمایت یافتہ نئی حکومت ایک ایسا سیاسی روڈ میپ سامنے لے آئے ہیں جس کے مطابق مصر میں نئے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات 2014ء میں ہو جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں