امریکی وزیردفاع کا مصری آرمی چیف سے سیاسی نقشہ راہ پر تبادلہ خیال

جزیرہ نما سینا میں امن وامان کی صورت حال اور قبطیوں کی بحالی پر گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزیردفاع چک ہیگل نے مصر کی عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی نقشہ راہ پر پیش رفت کے لیے اقدامات کرے۔

انھوں نے یہ بات مصر کی مسلح افواج کے سربراہ اور وزیردفاع جنرل عبدالفتاح السیسی سے ٹیلی فون پر تبادلہ خیال کے دوران کہی ہے۔ پینٹاگان کے پریس سیکرٹری جارج لٹل نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ چک ہیگل اور جنرل السیسی نے جزیرہ نما سیناء میں امن وامان کی صورت حال بحال کرنے کے لیے مصر کی کوششوں اور تشدد سے متاثرہ قبطی عیسائی کمیونٹی کی بحالی کے لیے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔

بیان کے مطابق: ''ہیگل نے (مصری) وزیردفاع السیسی پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی نقشہ راہ پر پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے اقدامات کریں''.

واضح رہے کہ مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں 3 جولائی کو منتخب جمہوری صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔ امریکا نے فوجی سربراہ کے اقدام کو بغاوت تو قرار نہیں دیا تھا لیکن اس کی مخالفت کی تھی اور اس کے بعد مصری فورسز کی مرسی کے حامیوں کے خلاف مسلح کریک ڈاؤن کی بھی مخالفت کی تھی۔

امریکا نے گذشتہ ہفتے ایک مرتبہ پھر مصر میں نافذ ہنگامی حالت کی بھی مخالفت کی ہے اور اس کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے 14 ستمبر کو ایمرجنسی کے نفاذ میں مزید دو ماہ کے لیے توسیع کردی تھی۔

امریکا اور مصر کے دو طرفہ تعلقات میں حالیہ سرد مہری کے باوجود وزیردفاع چک ہیگل اپنے مصری ہم منصب جنرل عبدالفتاح السیسی سے رابطے میں رہے ہیں کیونکہ دونوں ممالک کے دوران عشروں سے گہرے فوجی تعلقات قائم ہیں۔

تاہم امریکا نے منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد مصرکی مسلح افواج کے ساتھ مشترکہ سالانہ مشقیں منسوخ کردی تھیں۔ البتہ اس نے مصر کی ایک ارب پچپن کروڑ ڈالرز کی سالانہ فوجی اور معاشی امداد بند نہیں کی ہے اور امریکی حکام کے بہ قول اس پر ابھی غور ہی کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں