شامی حکومت نے روس کو کیمیائی حملے کا نیا ثبوت دے دیا

دمشق کے نواح میں باغی جنگجوؤں پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی حکومت نے روس کو 21 اگست کو دمشق کے نواحی علاقے میں باغیوں کے خلاف کیمیائی حملے میں ملوث ہونے کا نیا ثبوت پیش کردیا ہے۔

روس کے نائب وزیرخارجہ سرگئی ریاب کوف نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''روس کے حوالے متعلقہ مواد کیا گیا ہے۔ ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ باغیوں کے کیمیائی حملے میں ملوث ہونے کا ثبوت ہے''۔ ریاب کوف نے شامی وزیرخارجہ ولید المعلم سے ملاقات کے بعد یہ بیان جاری کیا ہے.

انھوں نے دمشق کے نواحی علاقے الغوطہ میں گذشتہ ماہ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے متعلق اسی ہفتے منظرعام پر آنے والی اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ پر منتخبہ ہونے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ ''مکمل تصویر کے بغیر ہم نتائج کو سیاسی، متعصبانہ اور یک طرفہ قرار دیے بغیر کچھ نہیں کہہ سکتے''۔

دوسری جانب امریکی صدر براک اوباما نے گذشتہ روز ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ''شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ نے بشارالاسد رجیم سے متعلق عالمی رائے عامہ کو تبدیل کردیا ہے''۔

اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے متعلق رپورٹ دو روز پہلے سوموار کو جاری کی گئی ہے۔ اس میں یہ تو کہا گیا ہے کہ غوطہ میں اعصاب شکن گیس سیرن کا حملہ ہوا تھا لیکن اس میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ یہ حملہ کس نے کیا تھا۔ اس واقعے میں چودہ سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

امریکی صدر نے کہا کہ اس رپورٹ میں وہی کچھ ثابت ہوا ہے جو وہ اور ان کی انتظامیہ کہہ رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ''اقوام متحدہ کی رپورٹ کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس میں پیش کردہ شواہد کی تفصیل سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ رجیم کے سوا کسی اور نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہیں کیا تھا اور اس نے اس ایشو پر عالمی رائے کو تبدیل کردیا ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں