شام کے خلاف طاقت کے استعمال کے لیے یو این قرارداد کا مطالبہ

اسدر جیم کی ''جنگی مشین'' کے خاتمے سے شامیوں کی ہلاکتیں روکی جا سکتی ہیں: جربا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی حزب اختلاف کے سربراہ احمد جربا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صدر بشارالاسد کی ''جنگی مشین'' کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کا اختیار دینے کے لیے یو این چارٹر کے باب سات کے تحت قرارداد کی منظوری دے۔

احمد جربا نے منگل کی رات العربیہ ٹیلی ویژن سے نشر کی گئی ایک تقریر میں کہا کہ ''شامی عوام کی ہلاکتیں صرف اسی صورت میں روکی جا سکتی ہیں کہ اسد رجیم کی جنگی مشین کو روک لگائی جائے۔اس مقصد کے لیے اس کو فضائیہ ،میزائل اور توپخانے کے استعمال سے روکا جائے اور اس سے کیمیائی ہتھیار چھین لیے جائیں''۔

شامی حزب اختلاف کے سربراہ نے کہا کہ ''بشارالاسد کی فورسز کے خلاف یہ کارروائی اقوام متحدہ کے منشور کے باب سات کے تحت کی جائے''۔

ان کا یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک نے نیویارک میں یو این ہیڈکوارٹرز میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو ٹھکانے لگانے کے لیے فرانس کی مجوزہ قرارداد پر غور کیا ہے۔

سفارت کاروں کے مطابق فرانسیسی قرارداد کے مسودے میں بھی یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر صدر بشارالاسد امریکا اورروس کے درمیان جنیوا میں طے پائے سمجھوتے پر عمل درآمد نہیں کرتے اور اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ نہیں کرتے تو پھر ان کے خلاف اقوام متحدہ کے منشور کے باب سات کے تحت کارروائی کی جائے۔

برطانیہ ،فرانس اور امریکا شام کے خلاف سخت قرارداد کے حق میں ہیں لیکن روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے باب سات کے تحت قرارداد کی مخالفت کی ہے۔فرانس نے مجوازہ قرارداد میں شام میں گذشتہ ماہ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کا معاملہ ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت میں بھیجنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں