اسرائیل نے غزہ میں تعمیراتی سامان کی ترسیل پرعائد پابندیاں نرم کر دیں

اقدام کا مقصد محمود عباس کے لئے حمایت کو یقینی بنانا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک فلسطینی عہدیدار کے مطابق اسرائیل محاصرے کی شکار غزہ کی پٹی میں پرائیویٹ سیکٹر کے استعمال کی خاطر تعمیری سامان کی محدود مقدار کی ترسیل کی اجازت دے گا۔

فلسطینی اتھارٹی کے ذمہ دار رائد فتوح کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اسرائیل سے بار بار مطالبے کے بعد چھ سال میں پہلی بار اسرائیل اس بات پر تیار ہو گیا ہے کہ وہ اتوار کے روز سے تعمیری سامان جن میں سیمنٹ، سریا اور بجری شامل ہیں، کو کرم شالوم کراسنگ کے ذریعے سے غزہ میں لانے کی اجازت دے دے گا۔

فتوح نے بتایا کہ اس مقدار میں 1600 ٹن بجری، 800 ٹن سیمنٹ اور 400 ٹن سریا شامل ہیں جو کہ روزانہ غزہ پہنچائے جا سکتے ہیں۔

فرانسیسی خبررساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے ایک اسرائیلی عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ یہ بات سچ ہے اور اس کا مقصد معیشت کو مضبوط کرنا اور محمود عباس کی حمایت کا اظہار کرنا ہے۔

اسرائیلی عہدیدار نے مزید بتایا کہ اسرائیل نے پانی کی پائپ لائن کی بھی تعمیر شروع کر دی ہے اور جس سے غزہ میں اسرائیل سے آنے والے پانی کی مقدار دوگنی ہو جائے گی۔ حماس حکومت کے ایک عہدیدار نے تعمیری سامان کو لانے کی اجازت دینے کو مثبت پیش رفت مگر ناکافی قرار دیا۔

حماس کے نائب وزیر معیشت حاتم عویدہ نے کہا ہے کہ،"یہ ایک مثبت قدم ہے مگر غزہ کو روزانہ کی بنیادوں پر 6000 ٹن بجری، 4000 ٹن سیمنٹ اور 1500 ٹن سریے کی ضرورت ہے۔"

مشرق وسطٰی میں کوآرٹیٹ نمائندے ٹونی بلئیر نے اس فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ،"یہ قدم سفارتی مذاکرات کے لئے ایک مثبت ماحول بنانے کے لئے انتہائی اہم قدم ہے۔

پچھلے ہفتے کے دوران اسرائیل نے مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے 5000 فلسطینیوں کو ورک پرمٹ جاری کئے تھے۔ اسرائیلی عہدیدار کے مطابق اس اسرائیلی اقدام سے مغربی کنارے کی یہودی بستیوں اور اسرائیل میں کام کرنے والے فلسطینیوں کی تعداد بڑھ کر تقریبا 1 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جس میں سے تقریبا 30000 بغیر پرمٹ کے کام کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے غزہ میں تعمیری سامان زیر زمین سرنگوں کی مدد سے مصر سے سمگل کیا جاتا تھا مگر مصری فوج نے حال ہی میں بہت سی سرنگوں کو تباہ کر دیا جس کی وجہ سے غزہ میں تعمیری سامان اور روز مرہ کی بنیادی ضروریات کی اشیاء کی بھی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

اسرائیل کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ اس کے تعمیری سامان کو حماس کی جانب سے یہودی ریاست پر حملوں کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں