مصر: برطرف صدر مرسی کی خاندان سے پہلی مرتبہ ٹیلی فون پر گفتگو

اہلیہ اور بچوں کو نامعلوم مقام سے صحت کے بارے میں بتایا: وکیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے زیرحراست برطرف صدر محمد مرسی نے 3 جولائی کو مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں اپنی برطرفی کے بعد پہلی مرتبہ اپنے خاندان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔

ڈاکٹر محمد مرسی کے وکیل مصطفیٰ عطیہ نے بدھ کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ برطرف صدر نے گذشتہ ہفتے اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ ٹیلی فون پر پہلی مرتبہ بات چیت کی اور اس کے دو روز بعد بھی انھوں نے فون کیا تھا اور بتایا کہ ان کی صحت بہتر ہے۔

مصری فوج نے باسٹھ سالہ ڈاکٹر محمد مرسی کو ان کی برطرفی کے بعد سے کسی نامعلوم مقام پر نظر بند کر رکھا ہے اور گذشتہ ڈھائی ماہ میں ان کا اپنے خاندان کے ساتھ ٹیلی فون پر یہ پہلا رابطہ ہے۔ البتہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن نے اور افریقی یونین کے وفد نے ان کی برطرفی کے چند ہفتے کے بعد نامعلوم مقام پر واقع حراستی مرکز میں ان سے ملاقات کی تھی۔

مصر کے پبلک پراسیکیوٹر نے برطرف صدر کے خلاف لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے الزام میں مقدمہ قائم کیا ہے۔ تاہم ان کے اور اخوان المسلمون کی دوسری قیادت کے خلاف مقدمے کی سماعت کی ابھی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔

پراسیکیوٹر جنرل نے مرسی خاندان کے اثاثے بھی منجمد کر دیے ہیں۔ امریکا اور جرمنی نے ڈاکٹر مرسی اور ان کے حامیوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی مذمت کی ہے اور برطرف صدر محمد مرسی سمیت اخوان کے گرفتارشدہ کارکنان کی رہائی کا مطالبہ کرچکے ہیں لیکن مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے انھیں رہا کرنے سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ انھیں ان کے تحفظ کے پیش نظر ایک محفوظ جگہ پر زیرحراست رکھا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں