.

اخوان کے حامیوں کو گرفتار کرنے کی کوشش، پولیس افسر ہلاک

علاقے پر کنٹرول کیلیے کرفیو نافذ کر دیا ہے، گرفتاریوں کی توقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ماہ اگست میں پولیس سٹیشن جلائے جانے کے واقعہ کے مبینہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے کریک ڈاون کے دوران ایک مصری پولیس افسر ہلاک اور ایک افسر زخمی ہو گیا ہے۔ پولیس افسر کی ہلاکت کا واقعہ جمعرات کو صبح سویرے قاہرہ کے مضافات میں ضلع کرداش میں پیش آیا ہے۔

سرکاری طور پر بتایا گیا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے کریک ڈاون کے دوران سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس استعمال کیا اور بعد ازاں دوطرفہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پولیس کی کوشش تھی کہ ماہ اگست میں پولیس سٹیشن کو جلانے اور 11 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے سلسلے میں گرفتاریاں ممکن بنائے لیکن مزاحمت کے باعث جمعرات کے روز مزید ایک پولیس افسر کو جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔

ضلع کرداش میں مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی فوجی سربراہ کے ہاتھوں بر طرفی کے بعد سے صورت حال کشیدگی کا شکار ہے۔ اس علاقے میں پولیس کا داخلہ ممکن نہیں رہا ہے۔ ماہ اگست کے وسط میں اسی علاقے میں پولیس سٹیشن نذر آتش کرنے اور پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کا الزام اخوان المسلموں پر لگایا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے اور فوری طور پر پورے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ کرفیو کے دوران پولیس گرفتاریاں کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

واضح رہے منتخب صدر مرسی کی برطرفی کے بعد پھوٹنے والے مظاہروں اور ان کے خلاف سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاون سے ایک ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اس عرصے میں اخوان المسلمون کے مرکزی قائدین سمیت 2000 سے زائد حامیوں کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔