.

بحرینی حکومت اور حزب اختلاف میں مفاہمتی مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار

اپوزیشن رہ نما کی گرفتاری کے بعد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست بحرین کی اہل تشیع مسلک سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن کی نمائندہ جماعت "الوفاق" نے اپنے ایک مرکزی رہ نما خلیل مرزوق کی تشدد پر اکسانے کے الزام میں گرفتاری کے بعد حکومت کے ساتھ مذاکرات روک دیے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق "الوفاق" کی جانب سے جاری ایک تازہ بیان میں خلیل مرزوق کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے قومی مفاہمت کے لیے جاری مساعی کو سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ بحرین کے سیاسی منظرنامے میں مذاکرات کے ذریعے کافی حد تک پیش رفت ہو رہی تھی لیکن حکومت نے ہمارے کے ایک مرکزی لیڈر کو تشدد پراکسانے کے الزام میں حراست میں لے کرخود ہی مذاکرات کی مساعی کو نقصان پہنچایا ہے۔

منامہ میں "العربیہ" نیوز چینل کے نامہ نگارمحمد العرب نے بتایا کہ اہل تشیع کی جماعت "الوفاق" اور حکومت کے درمیان اعتماد سازی کا ماحول بہتر ہو رہا تھا لیکن حکومت کےہاتھوں اپوزیشن رہ نما خلیل مرزوق کی گرفتاری کے بعد اپوزیشن ایک مرتبہ پھر اکڑ گئی ہے۔ اگرحکومت خلیل مرزوق کو گرفتار نہ کرتی تو مفاہمت کے لیے جاری مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار نہ ہوتے۔

نامہ نگار نے بتایا کہ خلیل مرزوق نے کوئی دو ہفتے قبل منامہ میں ایک جلسے سے خطاب کے دوران حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ " مَیں وزارت قانون و انصاف کے تمام فیصلوں کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھتا ہوں"۔ اس کے علاوہ انہوں نے جس جلسے سے خطاب کیا اس میں بڑی تعداد میں نقاب پوش افراد موجود تھے، جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے ان کا تعلق کالعدم تنظیم "تحریک فروری 14" سے تھا جس نے دو سال قبل حکومت کے خلاف مسلح تحریک شروع کی تھی۔ خطاب کے بعد اپوزیشن رہ نما خلیل مرزوق ان نقاب پوش لوگوں سے ملتے اور انہیں بوسے دیتے رہے۔ ان کا یہ اقدام ہی ان کی گرفتاری کا باعث بنا۔

بحرینی حکام کا کہنا ہے کہ خلیل ابو مرزوق نے ایک دہشت گرد تنظیم سے راہ و رسم بڑھانے کے ساتھ ساتھ ملک میں تشدد کو ہوا دینے کی کوشش کی تھی جس پر انہیں عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔