.

شام: وسطی صوبہ حمص میں بم دھماکے، 9 شہری ہلاک

جھڑپوں میں اسد نواز ملیشیا کے 5 جنگجو اور متعدد باغی مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے وسطی صوبہ حمص میں سڑک کے کنارے نصب بموں سے منی بسوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں نو شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان کی اطلاع کے مطابق منی بسوں کے ایک قافلے کے گزرنے کے وقت متعدد دھماکا خیز ڈیوائسز سے دھماکے کیے گئے ہیں۔ان میں سے ایک بس میں سوار نو مسافر مارے گئے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ یہ بم دھماکے حمص شہر سے علویوں کی آبادی والے دیہات کی جانب جانے والی شاہراہ پر واقع ایک گاؤں جبرین کے نزدیک ہوئے ہیں اور ان کے فوری بعد باغی جنگجوؤں اور اسدنواز ملیشیا کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ ان جھڑپوں میں حکومت کی حامی پاپولر کمیٹیوں کے پانچ ارکان اور متعدد باغی مارے گئے ہیں۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے اس رپورٹ کی تصدیق کی ہے اور ''دہشت گردوں'' پر بم حملے کا الزام عاید کیا ہے۔ سانا نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ ''دہشت گردوں نے حمص، مسیاف شاہراہ پر ایک مسافر بس کو بم سے اڑا دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں نو شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں''۔ واضح رہے کہ شامی حکومت باغی جنگجوؤں کے لیے دہشت گرد کی اصطلاح استعمال کرتی ہے۔

درایں اثناء سرکاری فوج نے باغیوں کے زیر قبضہ حمص کے شمال مغرب میں واقع قصبے الحولہ پرگولہ باری کی ہے جس سے دو بچے ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ شامی فوج کے جنگی طیاروں نے حمص ہی کے متعدد مغربی دیہات پر حملے کیے ہیں۔