.

عراق: کردستان اسمبلی کے انتخاب کے لیے سکیورٹی فورسز کی پولنگ

نئی اسمبلی کے 111 ارکان کے انتخاب کے لیے ہفتے کو ووٹ ڈالے جائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے خودمختار شمالی علاقے کردستان میں سکیورٹی فورسز کے ہزاروں اہلکار آج جمعرات کو علاقائی اسمبلی کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں۔

علاقائی اسمبلی کے انتخاب کے لیے عام پولنگ ہفتے کے روز ہوگی۔ سنہ 1992ء کے بعد یہ چوتھی اسمبلی ہوگی جس کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ کردستان کے آزاد اعلیٰ الیکٹورل کمیشن کے مطابق کرد سکیورٹی فورسز کے قریباً ڈیڑھ لاکھ اہلکار اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں۔ وہ ہفتے کے روز پولنگ مراکز پر فرائض انجام دیں گے۔ قریباً تیس لاکھ عراقی کرد ووٹ دینے کے اہل ہیں۔

خودمختار کردستان کی علاقائی اسمبلی کی ایک سو گیارہ نشستوں کے لیے ایک ہزار ایک سو تیس امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔ تاہم اصل مقابلہ عراقی صدر جلال طالبانی کی جماعت پیٹریاٹک یونین آف کردستان اور علاقائی صدر مسعود بارزانی کی جماعت کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں کا آزاد اور دوسری چھوٹی جماعتوں کے امیدواروں کے ساتھ ہے۔

تبدیلی کے نام سے ایک انقلابی گروپ بھی میدان میں ہے۔ اس نے سنہ 2009ء میں منعقدہ انتخابات میں علاقائی پارلیمان کی 23 فی صد نشستیں جیت لی تھیں جبکہ کے ڈی پی اور پی یو کے کے اتحاد نے 57 فی صد نشستیں حاصل کی تھیں۔

اناسی سالہ جلال طالبانی دسمبر2012ء میں دل کا دورہ پڑنے کے بعد سے صاحب فراش ہیں اور وہ تب سے جرمنی میں زیر علاج ہیں۔ ان کا خاندان کسی سیاست دان کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔ ان کی صحت کی تشویش ناک صورت حال کے پیش نظر یہ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ مستقبل میں شاید وہ سیاست جاری نہ رکھ سکیں۔

واضح رہے کہ کردوں کو سنہ 1991ء میں علاقائی خودمختاری ملی تھی۔ تب امریکا اور برطانیہ نے انھیں صدام حسین کی فورسز سے محفوظ رکھنے کے لیے نوفلائی زون قائم کیا تھا۔ سنہ 2003ء میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد شمالی کردستان کو مزید آزادی اور خودمختاری مل گئی تھی۔ تاہم اس وقت کردستان کا بغداد کی مرکزی حکومت سے تیل کی برآمد سے حاصل ہونے والی آمدن، علاقوں اور وسائل کی تقسیم پر تنازعہ چل رہا ہے لیکن بغداد سے مطالبات میں تمام کرد ایک ہیں اور انھوں نے اس حوالے سے یکساں موقف اپنا رکھا ہے۔