.

لیبیا: سیف قذافی کے خلاف مقدمے کی سماعت دسمبر تک ملتوی

2011ء میں عوامی تحریک کے دوران جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے مقتول سابق صدر معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو زنتان کی ایک عدالت میں جمعرات کو پیش کیا گیا ہے۔ عدالت نے ان کے خلاف مقدمے کی مزید سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کردی ہے۔

سیف الاسلام قذافی کے خلاف 2011ء میں ان کے والد معمر قذافی کی حکومت کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران تشدد کے واقعات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

ان کے ایک وکیل نے بتایا ہے کہ اس کیس میں ماخوذ باقی افراد کے پیش نہ ہونے کی وجہ سے عدالت نے مقدمے کی سماعت ملتوی کی ہے تاکہ وہ بھی آیندہ تاریخ کو عدالت میں حاضر ہوں۔

سیف الاسلام قذافی نے آج ہی دارالحکومت طرابلس کی ایک عدالت میں بھی سکیورٹی الزامات کے سلسلہ میں پیش ہونا تھا۔ تاہم یہ قیاس آرائی کی جارہی تھی کہ شاید انھیں پکڑنے والے زنتان کے سابق باغی انھیں طرابلس لے جانے اور عدالت میں پیش کرنے کی اجازت نہ دیں۔

اگر ان کے خلاف عاید کردہ الزامات عدالت میں ثابت ہوگئے تو انھیں زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ واضح رہے کہ لیبیا میں موت کی سزا نافذ نہیں ہے اور سنگین جرائم میں زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہی سنائی جاسکتی ہے۔

مقتول کرنل قذافی کے چالیس سالہ جانشین بیٹے کو 19 نومبر2011ء کو مغربی شہر زنتان میں مسلح جنگجوؤں نے گرفتارکیا تھا۔ اس کے بعد سے انھیں اسی شہر میں ایک خفیہ جیل میں رکھا جارہا ہے۔ لیبیا انھیں ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے حوالے کرنے سے انکار کرچکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف ملک ہی میں انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے الزامات میں مقدمہ چلایا جائے گا جبکہ آئی سی سی انھیں ہیگ بھیجنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔

لیبی حکام نے چند ماہ قبل کہا تھا کہ سیف الاسلام قذافی کے خلاف زنتان ہی میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ لیبیا کے محکمہ پراسیکیوشن کے ترجمان طہٰ ناصر برہ نے چند ہفتے قبل بتایا تھا کہ ''پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر کی ایک کمیٹی نے سیف قذافی سے ملک میں 15 فروری 2011ء کو انقلاب کے آغاز کے بعد سے سرزد ہونے والے جرائم کے بارے میں اپنی تحقیقات مکمل کرلی ہیں''۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف اگر لیبیا میں مقدمہ چلایا جاتا ہے تو انھیں نئی حکومت کے تحت عدالتوں سے انصاف ملنے کی توقع نہیں۔ اس لیے ان کے خلاف ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت ہی میں مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

وہ 2011ء میں اپنے والد کے خلاف مسلح عوامی بغاوت کو کچلنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں آئی سی سی کو مطلوب ہیں۔ آئی سی سی نے جون 2011ء میں ان کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت مخالف جرائم کے الزامات میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔