.

مصر: حزب النور صدارتی انتخابات کے لیے اسلام پسند امیدوارلانے کی مخالف

فوجی صدر کی حمایت میں کوئی مضائقہ نہیں: جماعت کا موقف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرمیں سلفی مسلک کی ایک نمائندہ مذہبی سیاسی جماعت "النور" نے مصر کے متوقع صدارتی انتخابات میں کسی اسلام پسند امیدوار کے میدان میں اترنے کی مخالفت کی ہے۔ جماعت کا کہنا ہے کہ معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف فوجی اقدام کے بعد اسلام پسندوں کے لیے اپنا امیدوار میدان میں اتارنا مناسب نہیں ہے۔ جماعت نہ تو خود اپنا کوئی امیدوار لآئے گی اور نہ ہی اسلام پسند صدارتی امیدوار کی حمایت کرے گی۔

اخبار"مصری الیوم" کے مطابق حزب النور کے مرکزی رہ نما صلاح عبدالمقصود نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان کی جماعت کسی اسلامی جماعت سے وابستہ شخصیت کو موجودہ مرحلے میں صدارتی انتخابات میں امیدوار لانے کی مخالفت کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات اسلام پسند صدر کے لیے سازگار نہیں ہوسکتے اور آئندہ کسی بھی صدرکے کندھے پر بھاری ذمہ داریاں ہوں گی۔ کوئی اسلام پسند صدر ان سے احسن طریقے سے عہدہ برآ نہیں ہوسکے گا۔

صلاح عبدالمقصود کا کہنا تھا کہ فی الوقت ان کے پاس ایسا کوئی اسلام پسند رہ نما نہیں ہے جس پرصدارتی انتخابات کے حوالے سے اعتبار کیا جاسکے۔ ہاں اگر کوئی اسلامی رحجان رکھنے والی شخصیت کسی جماعتی وابستگی کے بغیر الیکشن کی دوڑ میں شامل ہو اس کی مشروط حمایت کی جا سکتی ہے۔

فوجی صدر کی حمایت سے متعلق حزب النور کے لیڈر نے کہا کہ انہیں کسی فوجی شخصیت کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے پر کوئی اعتراض نہیں۔ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے اور ان کی جماعت اس کی حمایت بھی کرتی رہی ہے۔

قبل ازیں اسی طرح کا موقف سلفی جماعت "حزب النور" کے سربراہ یونس مخیون نے العربیہ ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بھی کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر فوجی شخصیت فوج کے ادارے کو سیاسی امور میں مداخلت سے باز رکھنے کی شرط پر انتخابات میں حصہ لے تو ان کی جماعت اس کی حمایت کرے گی۔

حزب النور کے رہ نما کے اس موقف پربعض دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے سخت تنقید کی بھی کی گئی تھی اور اسے فوجی حکمران کی چاپلوسی قرار دیا گیا تھا۔ "الوطن" پارٹی کے نائب صدر ڈاکٹر یسری حماد کا کہنا تھا کہ ترقی پذیر ممالک میں ایسا کہیں بھی نہیں ہوتا کہ فوج کو اتنے زیادہ اختیارات دیے گئے ہوں۔ ہمارے سامنے سوڈان، یمن، شام، لیبیا اور پاکستان کی مثالیں موجود ہیں۔ کسی بھی ملک میں فوجی حکومت کو عوام اور سیاسی جماعتوں نے دل سے قبول نہیں کیا ہے۔