.

براہ راست مذاکرات کیلیے ایران جوہری اسلحہ پروگرام ترک کرے: امریکا

جنرل اسمبلی کے دوران اوباما، روحانی ملاقات کی قیاس آرائیاں بڑھ گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سے دستبردار ہونے کو تیار ہو گیا تو امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ اس امر کا اظہار وائٹ ہاوس کے ترجمان جے کارنے نے کیا ہے۔

وائٹ ہاوس کے ترجمان کے مطابق'' ایرانی صدر حسن روحانی نے بعض مواقع پر مثبت لہجے میں گفتگو کی ہے لیکن الفاظ سے زیادہ عمل کی ضرورت ہے۔"

جے کارنے کا مزید کہنا تھا '' صدر اوباما 2008 میں اختیار کردہ اس موقف ' کہ وہ ایران کے ساتھ متعین شرائط کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے تیار ہیں ' پرآج بھی اسی موقف پر قائم ہیں۔''

تاہم ضروری ہے کہ ایران بین الاقوامی برادری کے اصرار پرجوہری ہتھیاروں کے پروگرام سے دستبردار ہو جائے۔ امریکی ترجمان کے مطابق '' امریکا کی اس بارے میں یہ پوزیشن بڑی واضح ہے ۔''

مبصرین کے خیال میں دوطرفہ برف پگھلنے کا امکان بڑھ رہا ہے کیونکہ اس سے پہلے ایرانی صدر بھی کہہ چکے ہیں کہ ایرانی جوہری پروگرام پر بات کرنے کے لیے وقت لا محدود نہیں ہے۔

حسن روحانی نے مختلف مواقع پر اپنی حکومت کے سابق صدر احمدی نژاد سے نرم موقف اور مختلف اسلوب کے اشارے دیے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکا اور ایران کے درمیان خط و کتابت کا سلسلہ بھی چل رہا ہے، جبکہ امریکا نے از خود خیر سگالی کے طور پر بعض پابندیاں نرم کی ہیں۔

اس صورتحال میں امریکا میں موجود سفارتی اور ابلاغی سطح پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ آئندہ ہفتے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر صدر اوباما اورایرانی صدر روحانی کی ملاقات کی کوئی صورت نکل سکتی ہے۔