.

تہران کا جوہری پروگرام دن بہ دن ترقی کر رہا ہے: اسرائیل

"ایرانی سفارت کاری دھوکہ اور وقت کے حصول کا ذریعہ ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرآئیل نے ایران کی جانب سے جوہری تنازع پر سفارت کاری کی تازہ کوششوں کو دھوکہ قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔ تل ابیب نے الزام عائد کیا ہے کہ تہران نے محض وقت کے حصول اور دنیا کو دھوکہ دینے کے لیے سفارت کاری کے لیے نیا انداز بیان اختیار کیا ہے۔ موجودہ صدر حسن روحانی اپنے پیش رو محمود احمدی نژاد کی راہ پر چل رہے ہیں۔ دونوں کی پالیسوں میں کوئی جوہری فرق نہیں ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے "رائیٹرز" کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جوہری توانائی ایجنسی کے چیئرمین شاؤل حوریف نے ویانا میں عالمی توانائی ایجنسی کے سالانہ اجلاس کے دوران تہران کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ "ایرانی سفارت کار عالمی ادارے میں جوہری پروگرام کی جو تصویر کشی کر رہے ہیں وہ زمینی حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ ایران تیزی کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور دنیا کو بتایا جا رہا ہے کہ تہران معاملے پر سفارت کاری کررہا ہے۔ یہ محض ایک دھوکہ اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا ایک ذریعہ ہے"۔

قبل ازیں اسی اجلاس سے ایرانی جوہری توانائی ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے بھی خطاب کیا تھا۔ مسٹر صالحی کا کہنا تھا کہ "مغرب اور ایران کے درمیان جوہری تنازع پر لچک کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ تہران اور مغربی طاقتوں کے درمیان بات چیت میں جوہری تنازع سےمتعلق جمود جلد ٹوٹ جائے گا۔

بعد ازاں اسرائیلی عہدیدار نے اپنی تقریر میں کہا کہ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ایران نے جوہری تنازع کے حل کے لیے نئے سفارت کارتعینات کیے ہیں اور سفارت کاری کی زبان تبدیل کی ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ مغرب طویل مذاکرات کے باوجود ایران کا ایٹمی پروگرام رول بیک کیوں نہیں کرا سکا ہے اور معاملات آج تک کیوں پہنچے ہیں۔ مسٹر حوریف کا کہنا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام دن بہ دن ترقی کی جانب گامزن ہے لیکن ایرانی عہدیدار دنیا کو دھوکہ دے کر مزید وقت حاصل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

اسرائیلی جوہری توانائی ادارے کے سربراہ نے ویانا اجلاس میں عرب مندوبین کی تقاریر پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک اسرائیل کوجوہری عدم پھیلاؤ معاہدوں کے جال میں جکڑنے کے لیے قراردادیں لانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ میں عالمی توانائی ایجنسی سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اسرائیل مخالف عرب ممالک کی ایسی کسی قرارداد کو خاطرمیں نہ لائے جس میں اسرائیل کے لیے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہو۔