.

سعودی عرب میں مہلک وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا: ماہرین

مشرق وسطیٰ اور یورپ میں کرونا وائرس سے 132 افراد متاثر، 58 کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرق وسطیٰ اور یورپ میں حال ہی میں پھیلنے والے مہلک وائرس ایم ای آر ایس (مرس) کے نمونوں کے جینیاتی تجزیے کے بعد سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے اور ایسا ایک مرتبہ نہیں بلکہ متعدد مرتبہ ہوا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سینڈروم (مرس) سے اب تک یورپ اور مشرق وسطیٰ میں ایک سو بتیس افراد متاثر ہوئے ہیں اوران میں سے اٹھاون موت کے منہ میں چلے گئے ۔یہ وائرس ایک سال قبل سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے دوسرے ممالک میں پھیلا تھا اور اس سے سعودی عرب کے علاوہ فرانس، جرمنی، اٹلی، تیونس اور برطانیہ میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

کرونا وائرس کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کا تعلق بھی ایک عشرے قبل پھیلنے والے والے سارس وائرس کے خاندان سے ہے۔ برطانوی اور سعودی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس جانور سے متعدد مرتبہ انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔ تاہم یہ وبائی شکل اختیار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

برطانیہ کے سانگر انسٹی ٹیوٹ اور یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر پال کیلام کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم نے سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے اکیس مریضوں سے حاصل کردہ مرس کرونا وائرس کے نمونوں کا تجزیہ کیا ہے اور اس کے پھیلنے کی وجوہات کا پتا چلایا ہے۔ تاہم اس تجزیے سے سائنسدانوں کو یہ پتا نہیں چلا سکا ہے کہ یہ مہلک وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں کیسے منتقل ہوتا ہے۔ البتہ اس سے اس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے انسدادی تدابیر کو عملی جامہ پہنانے میں مدد مل سکے گی۔

سائنسدانوں کے مختلف گروپ اس وائرس کے بکریوں، بھیڑوں، کتوں، بلیوں، اونٹوں اور دوسرے جانوروں میں پائے جانے کی بھی تحقیقات کررہے ہیں۔ بعض سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ وائرس ایک فرد سے دوسرے فرد تک پھیل سکتا ہے۔ تاہم اس کا بآسانی وبائی انسانی بیماری کے طور پر پھیلنا بظاہر ممکن نظر نہیں آتا ہے۔

مذکورہ مطالعے پر کام کرنے والے یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر علی زملہ کا کہنا ہے کہ بارہ ماہ قبل سعودی عرب میں کرونا وائرس کے پھیلنے کے بعد سے دو بڑے اجتماع منعقد ہوچکے ہیں۔ ایک اکتوبر 2012ء کا حج اور دوسرا جولائی 2013ء میں رمضان کے دوران عمرے کا اجتماع۔ لیکن لاکھوں افراد کے ان دونوں اجتماعات کے دوران کرونا مرس وائرس کے پھیلنے کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا تھا اور اس سے انفرادی طور پر ہی انسان متاثر ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کے تیل کی دولت سے مالا مال علاقے الاحسا میں گذشتہ سال اس نئے وائرس سے متاثرہ افراد کے کیس سب سے پہلے سامنے آئے تھے۔ یہ علاقہ بحرین اور قطر کی سرحد کے نزدیک واقع ہے۔

این کوو یا ناول کورنا وائرس (این کوو) وائرسوں کے اسی خاندان سے تعلق رکھتا ہے جن کے نتیجے میں متاثرہ شخص کو شدید سردی لگتی ہے۔ اسی نسل کا سارس (سویئر ایکیوٹ ریسپائریٹری سینڈروم ) وائرس سب سے پہلے 2003ء میں ایشیا بھر میں پھیلا تھا اور اس سے اب تک دنیا بھر میں قریباً آٹھ سو افراد مارے جاچکے ہیں۔

سعودی عرب میں پایا جانے والا یہ نیا وائرس بھی سارس کی طرح کا ہے لیکن پہلے یہ صرف چمگادڑ میں پایا جاتا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس این کوو وائرس کا بھی سارس وائرس کے لیے تیار کی جانے والی دوا سے علاج ممکن ہے۔ یاد رہے کہ سارس وائرس سے دنیا بھر میں آٹھ ہزار افراد متاثر ہوئے تھے اور ان میں سے دس فی صد انتقال کر گئے تھے۔