.

شامی حکومت یا باغی جنگ جیتنے کی پوزیشن میں نہیں: نائب وزیر اعظم

جنیوا میں مجوزہ امن مذاکرات کے لیے جنگ بندی کرسکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے نائب وزیراعظم قدری جمیل کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری خانہ جنگی ڈیڈلاک کا شکار ہوچکی ہے اور مسلح حزب اختلاف یا حکومت میں سے کوئی بھی مخالف فریق کو شکست دینے کی پوزیشن میں نہیں۔اس لیے شامی حکومت جنیوا میں مجوزہ امن مذاکرات کو وقوع پذیر ہونے کے لیے جنگ بندی کرسکتی ہے۔

انھوں نے یہ اعترافی اعلان برطانوی اخبار گارجین کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا ہے۔جمعرات کو شائع شدہ اس انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ مسلح حزب اختلاف یا رجیم میں سے کسی میں بھی مخالف فریق کو شکست دینے کی صلاحیت نہیں ہے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ تعطل کا شکار جنیوا دوم کانفرنس کے لیے ان کی حکومت کیا تجویز کرے گی تو انھوں نے اس کے جواب میں کہا:''بیرونی مداخلت کے خاتمے کے لیے جنگ بندی ہونی چاہیے اور پرامن سیاسی عمل اس انداز میں شروع کیا جائے کہ شامی عوام باہر سے کسی مداخلت کے بغیر جمہوری انداز میں اپنے حق خودارادیت کا استعمال کرسکیں''۔

قدری جمیل نے اس بات پر زوردیا کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ،یہ سب حکومت کا موقف ہے۔واضح رہے کہ جنیوا میں گذشتہ جون میں شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے سے متعلق مذاکرات کا پہلا دور ناکام رہا تھا اور اب امریکا اور روس شامی حکومت اور حزب اختلاف کو ایک مرتبہ جنیوا میں امن کانفرنس میں اکٹھے کے لیے کوشاں ہیں۔

باغیوں نے پہلی جنیوا کانفرنس کا بائیکاٹ کیا تھا اور اب بھی وہ صدر بشارالاسد کے مستعفی ہونے تک دوسری مجوزہ کانفرنس میں شرکت کو تیار نہیں لیکن قدری جمیل نے واضح کیا کہ بشارالاسد کسی کے مطالبے پر اقتدار نہیں چھوڑیں گے۔انھوں نے کہا کہ ''کسی کو اس بات میں شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ موجودہ شکل میں رجیم اپنا کام جاری رکھے گا''۔

انھوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ ''وہ ہمارے کندھوں سے اتر جائیں اور حکومت کو ترقی پسندانہ اصلاحات پر عمل درآمد کرنے دیں''۔انھوں نے برطانوی اخبار کو انٹرویو میں یہ انکشاف کیا کہ خانہ جنگی سے اب تک شامی معیشت کو 100ارب ڈالرز کا نقصان پہنچ چکا ہے۔

قدری جمیل شام کی چھوٹی سیکولر جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔انھیں گذشتہ سال صدر بشارالاسد کی بعث پارٹی کی اجارہ داری کم کرنے کے لیے حکومت میں شامل کیا گیا تھا اور نائب وزارت عظمیٰ کا منصب سونپا گیا تھا۔