امریکا کے لیے جاسوسی کے الزام میں سابق ایرانی سفارت کار کو سزا

مہاجرانی قطر میں ایران کے کلچرل اتاشی رہ چکے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کی ایک انقلاب عدالت نے سابق سفارت کار حمید رضا مہاجرانی کو امریکا کے لیے جاسوسی کی پاداش میں پانچ سال قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔ مسٹر مہاجرانی خلیجی ریاست قطر میں ایرانی سفارت خانے میں کلچرل اتاشی کی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

ایران میں انسانی حقوق کی مانیٹرنگ کرنے والے ادارے کی ویب سائٹ "ہرنا" کے مطابق تہران کی انقلاب عدالت نے مسٹرمہاجرانی کو امریکا کے لیے جاسوسی اور اہم قومی راز افشاء کرنے کے الزام میں قید کی سزا سنائی ہے۔ وہ ماضی میں دوحہ میں ایرانی سفارت خانے میں ثقافتی اتاشی کے عہدے پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور ثقافتی امور کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ ایرانی انٹیلی جنس حکام نے مسٹر مہاجرانی کو رواں کے آغاز میں دوحہ سے تہران واپسی پرحراست میں لے لیا تھا۔ چند ماہ تک غائب رہنے کے بعد انہیں عدالت میں پیش کیا گیا اور ان پر ایک دشمن ملک کے لیے جاسوسی کے الزام کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔ عدالت نے تازہ فیصلے میں ملزم کو پانچ سال قید کی سزا کا حکم دیا ہے جس میں سات ماہ وہ پہلے جیل میں گذار چکا ہے۔

"ہرنا" کے مطابق انقلاب عدالت کے جج نے بدھ اٹھارہ ستمبر کو تعزیرات اسلامی کی دفعہ 508 کے تحت مسٹر مہاجرانی کو پانچ سال تک جیل میں رکھنے کی سزا کا حکم دیا۔

خیال رہے کہ امریکا کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایرانی سفارت کار کو سزا ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان پس چلمن خفیہ سفارتی مراسلت کی بھی اطلاعات ہیں۔

کسی ایرانی عہدیدار کو امریکا کے لیے جاسوسی کی الزام میں قید کی سزا کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی محاذ پر کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی تھی جب سنہ چار نومبر 1979ء کو ایرانی حکام نے کئی ایرانی عہدیداروں کو امریکا کے لیے جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔ ان میں آیت اللہ روح اللہ امام خمینی کے برپا کردہ انقلاب کے بعد وجود میں آنے والی پہلی حکومت کے ترجمان اور امریکا اور سوویت یونین کے ساتھ ایرانی مذاکرات کار عباس امیر اور جوہری تنازع کے سابق مذاکرات کار حسین موسویان بھی شامل تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں