یورپی سفارت کاروں کے ساتھ اسرائیلی فوج کی دست درازی

اسرائیل نے کہا ہے کہ اس الزام کی تفتیش کی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے لیے امداد لے جانے والے یورپی سفارت کاروں کے ساتھ اسرائیلی فوجیوں نے بدتمیزی کی ہے۔ ادھر اسرائیل نے کہا ہے کہ اس الزام کی تفتیش کی جائے گی۔

اسرائیلی فوجیوں نے جمعہ کو وہ ٹرک میں اپنے قبضے میں لیے لیا جس میں یورپی سفارت کار ٹینٹ اور دیگر امدادی سامان لے جا رہے تھے۔ یہ ہنگامی امداد ان فلسطینیوں کے لیے تھی جن کے گھر گزشتہ ہفتے مسمار کیے گئے تھے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فوجیوں نے سفارت کاروں، مقامی شہریوں اور امدادی کارکنوں پر ساؤنڈ گرینیڈ پھینکے۔ وہ ان کا ایک ٹرک اپنے ساتھ لے گے۔ اس سے قبل انہوں نے ٹرک میں سوار ایک فرانسیسی خاتون سفارت کار ماریوں کیستاں کو باہر کھینچا اور زمین پر دھکا دیا۔ انہوں نے زمین سے اٹھنے کے بعد اسرائیلی فوجی کو گھونسا مارا۔

اس فرانسیسی سفارت کا کہنا تھا: ’’انہوں نے مجھے ٹرک سے باہر کھینچا اور سفارتی استثنیٰ کا لحاظ کیے بغیر مجھے دھکا دیا اور میں زمین پر گر گئی۔‘‘ رائیٹرز کے مطابق بعد ازاں گرد میں اَٹی کیستاں کا کہنا تھا: ’’یہاں بین الاقوامی قانون کا اس طرح احترام کیا جاتا ہے۔‘‘

خبر رساں ادارے "اے پی" کے مطابق اسرائیل اس الزام کی تفتیش کر رہا ہے۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اگر کیستاں وہاں موجود تھیں تو فرانس سے اس کی شکایت کی جائے گی۔

سفارت کاروں کا تعلق فرانس، برطانیہ، اسپین، آئرلینڈ، آسٹریلیا اور یورپی یونین کے پولیٹیکل دفتر سے تھا۔ ایک سفارت کار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے پر کہا: ’’یہ حیرت انگیز اور جارحانہ ہے۔ ہم ان کارروائیوں کی اطلاع اپنی حکومتوں کو دیں گے۔‘‘

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ خربة المكحول میں 120 افراد کی رہائش تھی۔ اسرائیلی فوج نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ان کے گھر مسمار کر دیے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے پاس تعمیر کے لیے باقاعدہ اجازت نامہ نہیں تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے علاقہ چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے جمعے کو کہا کہ سکیورٹی فورسز نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق خیمے کھڑے کیے جانے کی کوشش کا راستہ روکا۔ فوج کی ایک ترجمان کا کہنا تھا: ’’وہاں، فلسطینیوں اور غیرملکی کارکنوں نے پرتشدد طریقے سے اعتراض کیا، پتھر پھینکے اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار پر دھاوا بولا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’ان رپورٹوں کا اس وقت جائزہ لیا جا رہا ہے کہ غیرملکی سفارت کاروں نے اپنے سفارتی استحقاق کا ناجائز استعمال کیا اور اگر ضرورت پڑی تو متعلقہ حکام کو شکایت کی جائے گی۔‘‘ رائیٹرز کے رپوٹروں کے مطابق انہوں نے وہاں کسی غیرملکی کارکن کو یا کسی کو پتھر پھینکتے دیکھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں