.

بغداد کے شیعہ اکثریتی علاقے میں ہلاکت خیر خود کش بم حملے

حملوں کا ہدف مجلس عزا میں شریک افراد تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی دارالحکومت بغداد کے اہم شیعہ آبادی والے علاقے صدر سٹی میں دو خود کُش بم حملوں اور ملک بھر میں دہشت گردی کے دیگر واقعات میں مرنے والوں کی کم ازکم تعداد 57 ہو گئی ہے۔

مقامی پولیس اور طبی ذرائع کے مطابق ایک حملہ آور بارود سے بھری گاڑی میں سوار تھا، جس نے خود کو ایک سخص کی رحلت کے بعد بنائے گئے تعزیتی کیمپ کے قریب دھماکے سے اڑا دیا۔ دوسرا دھماکا اس وقت ہوا جب پولیس اہلکار، میڈیکل ورکرز اور فائر بریگیڈ کے کارکن پہلے حملے کے زخمیوں اور ہلاک شدگان کی مدد کے لیے وہاں پہنچنے تھے۔

ہفتے کے روز تعزیت اور افسوس کے لیے جمع افراد کے اجتماع پر ہونے والے خودکُش حملے کو عراق میں حالیہ سالوں کے دوران ہونے والا اب تک کا دہشت گردی کی سب سے بڑا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ عراق میں حالیہ سالوں کے دوران کسی ایک واقعے میں اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں اس سے پہلے دیکھنے میں نہیں آئیں۔ ابتدائی رپورٹوں میں پولیس نے اس واقعے میں 57 ہلاکتوں اور 120 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ زخمیوں میں سے اکثر کی حالت تشویش ناک بیان کی جاتی ہے۔ پولیس کے مطابق یہ دونوں حملے خودکش تھے۔ ایک حملہ آور بارود سے بھری گاڑی میں سوار تھا اور دوسرا پیدل جائے وقوعہ پر پہنچا۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق شدید نوعیت کے ان دھماکوں کے بعد عارضی خیمہ گاہ میں آگ لگ گئی۔ اس خیمہ گاہ کے ٹینٹوں میں تعزیت کرنے والے لوگ جمع تھے۔ اس آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے وہاں موجود گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ جائے حادثہ سے اٹھنے والی آگ کے شعلے اور سیاہ دھواں شہر کے دور دراز علاقوں میں دیر تک دکھائی دیتا رہا۔

اس سے قبل ہفتے کو ہی بغداد کے شمال میں بیجی کے مقام پر ایک تھانے پر حملے میں 11 افراد مارے گئے تھے۔بغداد میں ہونے والے دو بڑے بم دھماکوں کے محض دو گھنٹے بعد عراق کے تاریخی شہر اُر کے قریب ایک بازار میں ہونے والے کار بم حملے میں 9 افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے۔ اسی طرح دارالحکومت بغداد کے نواحی ضلع عظمية میں فائرنگ کے ایک واقعے میں 4 افراد کو ہلاک کر دیا گیا۔

عراق میں حالیہ مہینوں کے دوران فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں سال عراق میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں جن میں صرف اگست میں 800 افراد ہلاک ہوئے۔

ہفتے کے روز ہونے والے حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے۔ تاہم عراق میں موجود القاعدہ حالیہ مہینوں میں بڑے پیمانے پر ہونے والے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے اور اس کا بنیادی ہدف شیعہ آبادی، سکیورٹی حکام اور حکومتی تنصیبات رہی ہیں۔