.

سفارتکاروں سے بدسلوکی پر یورپی یونین کی اسرائیل سے باز پرس

فلسطینیوں کے لئے ارسال امدادی سامان ضبطی پر اظہار افسوس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کے اعلی حکام نے اسرائیل سے استفسار کیا ہے کہ فلسطینیوں کے لئے انسانی بنیادوں پر ارسال کردہ امداد ہفتے کے روز ایک کارروائی کے دوران کیونکر بحق سرکار ضبط کی گئی۔

یاد رہے کہ جمعہ کے روز اسرائیلی فوجیوں نے یورپی سفارتکاروں سے بدسلوکی کرتے ہوئے فلسطینیوں کے لئے لائی جانے والی ہنگامی امداد ضبط کر لی تھی۔ یہ امداد ان فلسطینیوں کے لئے بھجوائی گئی جن کے گھر گذشتہ ہفتے منہدم کر دیئے گئے تھے۔
یورپی یونین کے حکام نے امدادی سامان کی ضبطی کی شدید مذمت کی ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی چیف کیتھرین آشٹن اور کمشنر برائے انسانی امداد کرسٹلینا جورگیوا کے ترجمان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق یورپی یونین کے نمائندگان نے اس معاملے پر اسرائیلی حکام سے وضاحت طلب کر لی ہے۔

یاد رہے کہ برطانوی خبررساں ادارے کے ایک رپورٹر نے مقبوضہ مغربی کنارے میں سفارتکاروں، امدادی کارکنوں اور مقامیوں کے گروہ پردستی بم پھینکتے ہوئے دیکھا۔ بعد ازاں انہوں نے صیہونی فوجی کو ایک فرانسیسی سفارتکار کو ٹرک سے گھسیٹ کر نکالا پھر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

اسرائیل اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا آغاز جولائی میں اس وقت ہوا جب یورپی یونین نے اگلے سال سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کام کرنے والی اسرائیلی تنظیموں کی مالی امداد بند کرنے کا فیصلہ کیا۔