.

پاسداران انقلاب ایران کا امریکا سے سفارت کاری کے خطرات پر انتباہ

ایرانی سفارت کار وائٹ ہاؤس حکام کے رویے کا عمیق نظری سے مشاہدہ کریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے پاسداران انقلاب نے اپنے ملک کے سفارت کاروں کو انتباہ کیا ہے کہ وہ امریکا سے سفارتی محاذ پر معاملہ کاری کرتے وقت ہوشیار رہیں اور محتاط طرز عمل کا مظاہرہ کریں۔

ایران کی خبررساں ایجنسی تسنیم نے ہفتے کے روز پاسداران انقلاب سے منسوب یہ بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ''ہمارے ملک کے سفارتی آلہ کاروں کے لیے تاریخی تجربے سے یہ ناگزیر ہوگیا ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس کے حکام کے رویے کا بڑی احتیاط اور عمیق نظری سے مشاہدہ کریں تاکہ ہماری قوم کے جائز مطالبات کو تسلیم کرلیا جائے اور روابط وتعلقات کی بحالی کی حمایت کرنے والے بھی ان کا احترام کریں''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''پاسداران انقلاب قومی مفادات پر مبنی اقدامات اور اس ضمن میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی وضع کردہ حکمت عملی کی حمایت کریں گے''.

ایرانی پاسداران کی جانب سے یہ انتباہ دونوں ممالک کے درمیان متوقع سفارتی روابطہ سے قبل سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر براک اوباما اور ایرانی صدر حسن روحانی آیندہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے سلسلہ میں نیویارک میں ہوں گے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس موقع پر دونوں لیڈروں کے درمیان ملاقات کا امکان ہے۔ تاہم ان کے درمیان پہلے سے کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام کے تنازعے کے معاملے پر باہمی احترام کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن ایران کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

وائٹ ہاؤس کے نائب ترجمان جوش ایرنسٹ نے کہا کہ ''ہم نے ایرانیوں کے ساتھ متعدد مرتبہ بات چیت کی ہے اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہم ان کے ساتھ اپنی گفتگوؤں کا سلسلہ جاری رکھیں گے''۔

انھوں نے مزید کہا: ''اس طرح کی گفتگوؤں سے ایرانیوں کو ایک موقع ملے گا کہ وہ اقدامات کے ذریعے سنجیدگی کے ساتھ اس بات کا اظہار کریں کہ وہ کن مقاصد کے تحت اپنے اس جوہری پروگرام پرعمل پیرا ہیں''۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز میں جمعہ کو شائع ہونے والے کالم میں مغرب کے ساتھ سفارتی محاذ پر کھلے پن کی حکمت عملی اختیار کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ''سفارت کاری میں تعمیری اپروچ کا مطلب کسی کا اپنے حقوق سے دستبردار ہونا نہیں بلکہ اس کا مطلب مدمقابل حریف سے باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر معاملہ کرنا ہے تاکہ مشترکہ تحفظات کو دور کرکے مشترکہ مقاصد حاصل کیے جاسکیں''.

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے گذشتہ ہفتے ہی صدر حسن روحانی کو امریکا کے ساتھ سفارتی سلسلہ جنبانی آغاز کرنے کے لیے گرین سگنل دیا تھا اور کہا تھا کہ سفارتی محاذ پر دلیرانہ نرم رویہ اختیار کی جائے اور اپنے حقوق سے دستبردار ہوئے بغیر مغرب کے ساتھ معاملہ کیا جائے۔