.

امریکا اور مغربی طاقتیں تصوراتی دشمن سے لڑ رہی ہیں: بشارالاسد

بیرونی طاقتیں بندوق برداروں کے ذریعے معائنہ کاروں کو روک سکتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے صدر بشارالاسد نے امریکا اور اس کے اتحادیوں برطانیہ و فرانس کی جانب سے سلامتی کونسل میں لائی جانے والی شام کے خلاف قرارداد پر کہا ہے کہ مغربی طاقتیں ایک تصوراتی دشمن سے لڑ رہی ہیں۔ بشار الاسد نے اس امر کا اظہار چین کے سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹر ویو میں کیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں بشارالاسد نے کہا انہیں اس پر کوئی پریشانی نہیں ہے کہ سلامتی کونسل میں آنے والی نئی قرارداد کا مسودہ کیا ہے کیونکہ چین اور روس شام کے خلاف ایسی کسی قرارداد کے منظور نہ ہونے دینے کا یقین دلاتے ہیں۔

واضح رہے یہ قرار داد الغوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے ہے کہ اس کیمیائی حملے کی ذمہ دار اسد انتظامیہ ہے۔ اس الزا م کو اسد انتظامیہ مسترد کرتی ہے اور کیمیائی ہتھیاروں سے ہونے والی ہلاکتوں کی ذمہ داری انقلابی افواج پر عائد کرتی ہے۔

اس بارے میں یو این سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے سفراء نے جمعرات کے روز ایک اجلاس میں مسودہ قرارداد پر غور کیا تھا، مغربی طاقتیں پر امید ہیں کہ قانونی دائرے کے اندر معاملہ طے ہو جائے گا۔

بشارالاسد کا انٹرویو میں کہنا تھا بندوق بردار کیمیائی ہتھیار ذخیرہ کرنے اور تیار کرنے کی جگہوں تک معائنہ کاروں کی رسائی میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا '' ہم جانتے ہیں کہ یہ دہشت گرد دوسرے ملکوں کا حکم مانتے ہیں، اس لیے غیر ملکی حکومتیں ان بندوق برداروں کو استعمال کر کے شامی حکومت پرمعاہدے کی پابندی نہ کرنے کا الزام لگا سکتی ہیں ۔''

شام کے صدر نے مزید کہا شام کئی عشروں سے کیمیائی ہتھیار بنا رہا ہے اس لیے بڑی تعداد میں ایسے ہتھیاروں کا ہونا عجیب بات نہیں ہو سکتی۔'' ہم بطور قوم طویل عرصے سے حالت جنگ میں ہیں، دہشت گردوں نے ہمارے علاقے کو پچھلے چالیس سال سے قبضہ میں لے رکھا ہے۔''

بشارالاسد نے واضح کیا کہ کیمیائی ہتھیار خصوصی حفاظت اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ رکھے گئے ہیں تاکہ کوئی تباہی پسند طاقت ان تک رسائی نہ کر سکے۔'' تباہی پسند طاقت کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا '' یہ طاقت کسی دوسرے ملک سے آ سکتی ہے ' شام کو فکر مندی کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ کیمیائی ہتھیار شام میں شامی افواج کے محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔''