.

امریکا کیطرف سے دو اسرائیلی فوجی مرنے کی مذمت

ایک ہاتھ سے یہودی بستیاں مضبوط ، دوسرے سے جنگ کرینگے: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے حالیہ دنوں میں دو الگ الگ واقعات میں دو اسرائیلی فوجیوں کے مارے جانے کی مذ مت کی ہے۔ اسرائیلی حکومت کے ذمہ دار افراد کے مطابق یہ ہلاکتیں امن مذاکرات کو روک سکتی ہیں۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق دو میں سے ایک اسرائیلی فوجی مغربی کنارے کے جنوبی علاقے ہیبرون میں مبینہ مشکوک فلسطینی کی گولی سے ہلاک ہوا تھا ۔ جبکہ دوسرے کی ہلاکت بھی مغربی کنارے میں ہوئی تھی۔

حالیہ عشرے میں اسرائیلی فوجی مسلسل میڈیا کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ پہلے مختلف فلسطینی پناہ گزین کیمپوں پر کریک ڈاون کے دوران فلسطینیوں کی ہلاکت کے حوالے سے، پھر یورپی ممالک کے سفیروں سے جھگڑا کرنے اور اب خود دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت پر امریکی مذمت سے اسرائیلی فوجی میڈیا کا موضوع بنے ہیں۔

ان واقعات کے بعد گزشتہ ماہ شروع ہونے والے امن مذاکرات کے مستقبل کے حوالے سے سوال ابھر آئے ہیں، جو امریکی کوششوں کے نتیجے میں کئی برس کے تعطل کے بعد ممکن ہوئے تھے۔

اس صورت حال پر امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا '' ہم تمام فریقوں سے ان حملوں کی مذمت کا مطالبہ کرتے ہیں۔'' اس سے پہلے اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا '' ہیبرون میں اتوار کی شام اسرائیلی فوجی کی ہلاکت فوج پر حملے کے ایک وقعے میں ہوئی ہے ۔''

اس واقعے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ہیبرون کے قریب پھر سے یہودی آباد کاری کا حکم دیا ہے۔ اس جگہ سے اسرائیلی حکومت نے 15 یہودی آباد کاروں کو گذشتہ سال جگہ خالی کر دینے کے لیے کہا تھا ،کہ یہ علاقہ مسلمانوں اور یہودیوں دونوں کے لیے یکساں تقدس کا حامل سمجھا جاتا ہے۔

دو فوجیوں کے مارے جانے پر اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا ہے '' ہمارے بزرگوں کی جگہ سے جس کسی نے بھی ہمیں زبردستی ہٹانے کی کوشش کی اسے مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہم ایک ہاتھ سے دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے اور دوسرے ہاتھ سے یہودی بستیوں کو مضبوط کرتے رہیں گے۔''

اسرائیلی کابینہ کے ایک سینئیر رکن نافتالی بینت نے اس صورتحال کے بارے میں کہا ''اسرائیلی فوجیوں پر ہونے والے دو حملے ہمیں امن مذاکرات کے حوالے سے از سر نو غور پر مائل کر سکتے ہیں۔ جب سے مذاکرات شروع ہوئے ہیں اس طرح کے واقعات ہو رہے ہیں اس لیے حکومت کو امن مذاکرات کے مستقبل کا جائزہ لینا ہو گا۔