.

ایران پر پابندیاں ناقابل قبول اور قابل مذمت ہیں: حسن روحانی

مغرب جوہری تنازعے پر ایران سے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی نے مغربی طاقتوں پر زور دیا ہے کہ وہ جوہری پروگرام کے تنازعے پر ایران کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کریں کیونکہ ان کی جانب سے عاید کردہ پابندیاں ناقابل قبول ہیں۔

انھوں نے مغرب کو مذاکرات کی یہ نئی پیش کش سوموار کو تہران سے نیویارک کے لیے روانہ ہوتے وقت ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کی ہے۔ ان کا جون میں صدر منتخب ہونے کے بعد امریکا کا یہ پہلا دورہ ہے اور وہ نیویارک مِیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔

حسن روحانی نے کہا کہ ''پابندیوں کا راستہ ناقابل قبول اور غیرحقیقی ہے۔جنھوں نے یہ راستہ اختیار کیا ہے، وہ اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب نہیں ہوں گے۔اس راستے کے بجائے ان (ممالک) کو باہمی تعامل، مذاکرات اور مفاہمت کی بنیاد پرایک راستے کا انتخاب کرنا چاہیے''۔

ان کا اشارہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ،امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے ایران پر جوہری پروگرام کے تنازعے پر عاید کردہ پابندیوں کی جانب تھا۔ سلامتی کونسل نے ایران پر چار مراحل میں اقتصادی پابندیاں عاید کررکھی ہیں جبکہ یورپی یونین اور امریکا نے الگ سے ایران کو جوہری پروگرام سے دستبردار کرانے کے لیے کڑی قدغنیں لگائی ہوئی ہیں جن کے نتیجے میں اب ایرانی معیشت زبوں حال ہوچکی ہے۔

ایرانی معیشت پر عالمی پابندیوں کے ان ہی منفی اثرات کے پیش نظر اب اعتدال پسند صدر حسن روحانی اپنی حکومت کے آغاز ہی میں مغربی طاقتوں کے ساتھ جوہری پروگرام کے تنازعے پر کھلے مذاکرات کا عندیہ دے رہے ہیں اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی انھیں امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی بحالی کے لیے گرین سگنل دے دیا ہے۔

انھوں نے صحافیوں سے گفتگو میں سابق صدر ایران محمود احمدی نژاد کا نام لیے بغیر کہا کہ ''حالیہ برسوں کے دوران ایسا ہاتھ کارفرما رہا ہے جس نے بدقسمتی سے ایران کے محبت، امن اور تہذیب کے کلچر کو مختلف انداز میں پیش کیا ہے''۔ یاد رہے کہ سابق ایرانی صدر جنرل اسمبلی میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف تندوتیز تقریریں کرتے رہے ہیں جس سے ایران کے امریکا اور دوسرے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدگی ہوگئے۔

حسن روحانی منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر فرانسیسی صدر فرانسو اولاند سے ملاقات کریں گے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق گذشتہ ایک عشرے کے دوران کسی صدر کی کسی مغربی سربراہ ریاست کے ساتھ یہ پہلی ملاقات ہوگی۔

امریکی صدر براک اوباما بھی اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے سلسلہ میں نیویارک میں ہوں گے۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس موقع پر دونوں لیڈروں کے درمیان ملاقات کا امکان ہے۔ تاہم ان کے درمیان پہلے سے کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے گذشتہ جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام کے تنازعے پر باہمی احترام کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن ایران کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔