.

شامی اپوزیشن جنیوا مذاکرات میں حصہ لینے پر تیار

مذاکرات کا مقصد ایک بار اختیار عبوری حکومت کی تشکیل ہونا چاہیے: جربا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد نے شامی خانہ جنگی کے خاتمہ کے لیے مجوزہ جنیوا مذاکرات میں شرکت پر مشروط آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ اپوزیشن کے سربراہ احمد الجربا نے کہا ہے '' ہم جنیوا مذاکرات میں اس صورت شریک ہو سکتے ہیں کہ مذاکرات کا مقصد شام میں ایک عبوری حکومت کی تشکیل ہو۔

شامی اپوزیشن جو کہ اکثر جلاوطن قائدین پر مشتمل ہے، 21 اگست کو الغوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد اس امر ہچکچاہٹ کا شکار رہی ہے کہ امریکا اور روس کی حمایت سے ہونے والے مجوزہ مذاکرات کا حصہ بننا چاہیے یا نہیں؟ لیکن اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے نام اپنے ایک خط میں حزب اختلاف کے قائد احمد الجربا نے لکھا ہے کہ'' شام کا اپوزیشن اتحاد اس امر کا تہیہ کیے ہوئے ہے کہ جنیوا مذاکرات میں شرکت کی جائے۔ لیکن تمام فریقوں کو اس چیز سے اتفاق کرنا ہو گا ان مذاکرات کے نتیجے میں شام کے لیے ایک مکمل با اختیارعبوری حکومت کی تشکیل کی جائے گی۔''

شامی اپوزیشن کے سربراہ نے یہ بھی کہا ہے '' کہ عبوری سیٹ اپ میں بشار الاسد کو کوئی کردار نہیں دیا جا ئے گا اور انہیں اس سے باہر رکھا جائے گا۔''

اس خط میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ'' اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب سات کے تحت سلامتی کونسل بشارالاسد کے خلاف قرارداد کی منظوری دے، تاکہ بشار رجیم کے خلاف عالمی برادری طاقت کا استعمال کر سکے ۔''