.

مصر: اخوان المسلمون کی سرگرمیوں پر پابندی عاید، اثاثے منجمد

عدالت کا حکومت کو اخوان کی تنظیم کے اثاثوں کا انتظام سنبھالنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے ملک کی سب سے منظم دینی و سیاسی قوت اخوان المسلمون کی ہرطرح کی سرگرمیوں پر پابندی عاید کردی ہے اور اس کے تمام اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت کے صدر جج محمد السید نے سوموار کو اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ''عدالت اخوان المسلمون اور اس کی غیرسرکاری تنظیم کی ان تمام سرگرمیوں پر پابندی عاید کرتی ہے جن میں وہ حصہ لیتی رہی ہے''۔

عدالت کا یہ فیصلہ مصر کی مسلح افواج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت کے برطرف صدر محمد مرسی کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔ عدالت نے حکومت کو اخوان المسلمون کے فنڈز منجمد کرنے اور ان کا انتظام سنبھالنے کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ مصر کی ماضی کی حکومتوں نے اخوان المسلمون کو پچاسی سال تک کالعدم قرار دیے رکھا تھا اور اسی سال مارچ میں اس کی غیر سرکاری تنظیم کے طور پر رجسٹریشن کی گئی تھی۔ اخوان المسلمون نے فروری 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے حریت اور عدل کے نام سے نئی جماعت قائم کی تھی۔

اس نوزائیدہ جماعت نے گذشتہ دوسال کے دوران ملک میں ہونے والے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کی تھی لیکن مصرکی مسلح افواج کو جمہوریت راس نہیں آئی اور اس کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے 3 جولائی کو اخوان سے ماضی میں تعلق رکھنے والے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو برطرف کردیا تھا اور ان کی جگہ سپریم دستوری عدالت کے سربراہ عدلی منصور کو عبوری صدر مقرر کیا تھا۔

جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں ملکی تاریخ کے جمہوری طور پرپہلے منتخب صدر محمد مرسی کی حکومت برطرفی کے بعد سے سکیورٹی فورسز نے ان کے قریبی ساتھیوں، مشیروں اور اخوان کے سرکردہ لیڈروں کی پکڑ دھکڑ شروع کررکھی ہے۔

اس دوران اگست کے وسط میں سکیورٹی فورسز کے قاہرہ اور دوسرے شہروں میں اخوان کے فوجی اقدام کی مخالفت احتجاج کرنے والے کارکنان اور دیگر جمہوریت پسندوں کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوگئے تھے۔

اس وقت اخوان کے مرشد عام محمد بدیع سمیت اس کی قریب قریب تمام قیادت جیلوں میں بند ہے یا پھر انھیں نامعلوم حراستی مرکز میں زیرتفتیش رکھا جارہا ہے اور ان کے خلاف لوگوں کو تشدد پر اکسانے اور ریاست کے مفادات کے منافی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے الزامات میں مقدمات چلائے جارہے ہیں۔