.

مرسی کی جماعت 'حریت اور انصاف' پر بھی پابندی عائد

تنظیم کے قیام کے بعد پابندی کا پہلا واضح عدالتی فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرکی سب سے منظم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے وکیل ثروت الخرباوی نے کہا ہے کہ جماعت کے تمام ادارے حتیٰ کہ سیاسی چہرہ "ازادی وانصاف" پر بھی ان پابندیوں کا اطلاق ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ اخوان المسلمون پر ماضی میں بھی پابندیاں لگتی رہی ہیں لیکن ان پابندیوں کا فیصلہ کوئی عدالت نہیں بلکہ حکومت کیا کرتی تھی۔ قیام جماعت کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ مصر کی کسی عدالت نے اخوان المسلمون کو پابندیوں کے جال میں جکڑنے کا صریح فیصلہ صادر کیا ہے۔

خیال رہے کہ سوموارکو قاہرہ کی ایک عدالت نے اخوان المسلمون کو کالعدم قرار دینے اور جماعت کےاثاثے منجمد کرنے سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت پر فیصلہ دیتے ہوئے جماعت پر پابندیاں عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت کے جج احمدالسید نے اپنے تفصیلی فیصلے میں حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ جماعت کے تمام اثاثے اپنے قبضے میں لے لے۔

عدالتی فیصلے کے بعد "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے اخوان کے وکیل ڈاکٹر ثروت الخرباوی نے کہا کہ فیصلے کا اطلاق جماعت کی سیاسی پارٹی "حریت وعدالت" پر بھی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سنہ 1928ء میں اخوان المسلمون کے قیام کے بعد اب تک جماعت پر کئی بار پابندیاں لگائی گئیں لیکن ان میں کسی عدالت نے کبھی کوئی واضح فیصلہ نہیں دیا، بلکہ پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ مصر کی کسی عدالت نے اخوان المسلمون کو کالعدم تنظیم قرار دیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر خرباوی کا کہنا تھا کہ اخوان المسلمون کے رہ نما اور کارکن اس فیصلے پر خاموش نہیں بیٹھے رہیں گے بلکہ ممکن ہے وہ کسی نئے نام کے ساتھ خود کو منظم کریں، لیکن جب تک پابندی برقرار ہے وہ کسی نئے گروپ کے لیے "اخوان المسلمون" کا نام استعمال نہیں کرسکیں گے۔