.

سعودی عرب نے"ڈرون" بنا لیا، 12 مصنوعی سیارے خلاء میں بھیجنے کا اعزاز

ریاض "دیسی خلائی ٹیکنالوجی" کا حامل پہلا عرب ملک بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے خلائی ٹیکنالوجی کا حامل پہلا عرب ملک بن گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے گذشتہ 36 برسوں میں 12 مصنوعی سیارے خلاء میں بھیجنے کے ساتھ ساتھ مختلف فضائی صلاحیتوں کے حامل ڈرون طیارے بھی تیار کرلیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کے "شاہ عبدالعزیز سٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی" کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریاض کو عرب ممالک میں "اسپیس ٹیکنالوجی" کے حامل ممالک میں پہلے ملک کا درجہ حاصل ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ سعودی ماہرین نے جتنی بھی خلائی مشینیں تیارکی ہیں، ان میں کسی دوسرے ملک کی ٹیکنالوجی استعمال نہیں کی گئی بلکہ ہرقسم کا سامان مقامی سطح پر تیار کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ایک درجن مصنوعی سیاروں کوخلاء میں چھوڑنے میں کامیابی کے بعد سعودی عرب ڈرون طیاروں کی تیاری میں بھی دیگر عرب ملکوں پرسبقت لے گیا ہے۔ مختلف صلاحیتوں کے حامل چارالگ الگ ڈرون طیارے تیار کیے گئے ہیں۔ سعودی عرب کا اب تک کا بہترین ڈرون طیارہ 150 کلو میٹر پرواز کرنے، 5000 میٹر بلندی پرآٓٹھ گھنٹے تک فضاء میں رہنے اور 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتارسے اُڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے نمبر پر120 کلومیٹر تک پرواز کرنے، پانچ سے چھ گھنٹے فضاء میں معلق رہنے اور پانچ ہزارمیٹر اونچائی پر اڑنے کی صلاحیت کے حامل اور ایک ہزار میٹر اونچائی پر اڑنے والا چھوٹا الیکٹرک ڈرون طیارہ بھی تیار کرلیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی ماہرین نے اپنی شبانہ روز محنت سے تین عشروں میں 12 مصنوعی سیارے خلاء میں بھیج کر ملک کا نام روشن کیا ہے۔ یہ سیارے اس وقت عرب ممالک، براعظم یورپ، افریقا، بھارت اور پاکستان سے مواصلاتی رابطوں میں مدد فراہم کرتے ہیں۔