.

مشرق وسطی میں پھر آمرانہ حکوتوں کا خطرہ ہے: صدر تیونس

مرسی کی برطرفی افسوسناک ہے، تیونس کی حکومت مدت پوری کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے صدر المرزوقی نے تیونس میں امریکی سفارتخانے پر گزشتہ سال ہونے والے حملے اور جولائی میں اپوزیشن رہنما محمد براہیمی کے قتل کی مذمت کی ہے اور انتباہ کیا ہے کہ مشرق وسطی میں پھر سے آمرانہ حکومتوں کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔

اپنے ملک تیونس کو آمریتوں کے سمندر میں جمہوریت کا جزیرہ قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا مصر اور لیبیا سمیت ہر جگہ جمہوریت مضبوط ہونی چاہیے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جنرل اسمبلی کے جمعرات سے شروع ہونے والے اجلاس کے لیے امریکا آمد پر ایک انٹر ویو میں کیا ہے۔

تیونس جہاں دسمبر 2010 کے انقلاب کے بعد منتخب مخلوط حکومت کو غیر معمولی ٘کالفانہ چیلنجوں کا سمنا ہے اور خود صدر امرزوقی سے استعفا کا مطالبہ بھی ہے لگا ہے کے سیاسی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے تیونس کے صدرنے موجودہ تیونسی حکومت کے مدت پوری کرنے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کسی نئے انقلاب کا خدشہ رد کیا ہے۔ مگر آمریتوں کے سمندر میں تیونس کو جمہوریت کا جزیرہ قرار دیتے ہوئے کہا اتنے بڑے سمندر میں جمہوریت کا جزیرہ کیسے ہو سکتا ہے۔

المرزوقی کا کہنا تھا'' تیونس میں جمہوری تجربے کی کامیابی کے لیے مصر اور لیبیا سمیت ارد گرد ہر جگہ جمہوریت مضبوط ہونی چاہیے۔ انہوں نے لیبیا میں قذافی کے بعد آ نے والی حکومت کے ابھی تک مسلح ملیشیا پر انحصار کرنے اور مصر میں منتخب صدر کی فوج کے ہاتھوں برطرفی پر افسوس کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا ''القاعدہ سے متعلق گروپ انصارالشریعہ تیونس میں مصر جیسی صورتحال پیدا کرنا چاہتا ہے لیکن ہم خوش قسمت ہیں ہم تیونس مصر نہیں ہے۔'' انہوں نے کہا ''تیونس میں کشیدگی اور بحرانی صورت حال کی وجہ ایک سال کے عرصے میں دو اہم سیاسی شخصیات کا قتل ہے۔''

ایک سوال کے جواب میں تیونس کے صدر المرزوقی نے کہا انہیں لگتا ہے تیونس میں بعض افراد کا قتل ممکن بنانے کے لیے سکیورٹی کمزور رکھنے پر کچھ لوگوں کو رقم ملے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا ۔'' اگر اپوزیشن کے دو رہنما قتل نہ ہوتے تو آج کا تیونس مختلف ہوتا۔ ملک کا نیا آئین بن چکا ہوتا، نئی حکومت آچکی ہوتی اور ملک جمہوری استحکام کی راہ پے گامزن ہوتا۔''

المرزوقی نے کہا انہیں یقین ہے کہ قتل کے دونوں واقعات میں القاعدہ سے متعلق انصار الشریعہ گروپ ملوث ہے۔ صدر تیونس کے کہا انصار الشریعہ نے کسی فرد کو نہیں بلکہ پوری قوم کو قتل کیا ہے۔

صدر تیونس نے اس امرپر بھی افسوس ظاہر کیا کہ ان کے ملک میں امریکی سفارتخانے پر حملہ کرنے والے ان بیس افراد کی سزا معطل کر دی گئی۔ جنہیں حملے کا مجرم قرار دیا گا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں المرزوقی کا کہنا تھا'' اپوزیشن لیڈر کے قتل اور امریکی سفارتخانے پر حملے کے دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں۔''

المرزوقی نے منتخب تیونسی حکومت کی فرمائش کی کہ وہ دہشت گردی کے خطرات کو سنجیدہ نہیں لیتی۔ انہوں نے کہا تیونس میں موجود بدامنی نے ان کے ملک کو ترقی کے حوالے سے کئی سال پیچھے دھکیل دیا ہے.

ایران اور اس کے اتحادی شام کے بار میں بات کرتے ہوئے صدر المرزوقی کا کہنا تھا ایران کے پاس یہ منفرد موقع ہے کہ عرب دنیا میں اپنی عزت اور ساکھ میں اضافہ کرے۔ اس مقصد کے لیے ایران کو چاہیے کہ وہ اپنے اتحادی ملک شام کو امن کی طرف لائے۔

ان کا کہنا تھا ''نئے ایرانی صدر شام کے مسئلے کے حل کے لیے بات چیت اور مکالمے کے حوالے سے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔'' ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا'' شام سے سب سے فائدہ ایران کا ہے، تاہم ایک سخت گیر ایران میں حسن روحانی ایک اعتدال پسند لیڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان کی طرف سے بشارالاسد اور شامی اپوزیشن کےد رمیان بات چیت شروع کرانے کی پیش کش نے مغرب کو متاثر کیا ہے۔''

ایرانی صدر حسن روحانی سے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اپنی متوقع ملاقات کے حوالے سے انہوں نے کہا '' میں انہیں بتاوں گا کہ شام میں وہ اپنے آدمی پر دباو ڈال کر پوری عرب دنیا میں عزت پا سکتے ہیں۔ جبکہ اس ایک شخص کی حمایت کرنے کا مطلب پورے عالم عرب کو اپنے خلاف کرنا ہے۔''

انہوں نے شام کے صدر بشارالاسد کے لیے اپنی اس پیش کش کا دفاع کرتے ہوئے کہا'' اگر بشارالاسد کو سیاسی پناہ دے کر ہزاروں اہل شام کی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں تو ایسا کیوں نہ کیا جائے۔''

انہوں نے تسلیم کیا ایسا کرنا بلاشبہ ایک خوفناک فیصلہ ہو گا لیکن ان کے مطابق '' انسانی زندگیاں بچانے کے لیے غلط نہیں ہو گا۔'' شام کے صدر بشارالاسد جنہیں تیونس کے صدر المرزوقی ایک جرائم پیشہ کے نام سے یاد کرتے ہیں کو سیاسی پناہ دینے کی پیش کش کے بارے میں انہوں نے مزید کہا وہ ایک فزیشن ہیں اور زندگی بچانے کو انصاف سے بھی اہم سمجھتے ہیں۔