.

مصری اخوان المسلمون پرعدالتی حکم کے تحت پابندی کی مذمت

مصری عدالت کا فیصلہ جبرواستبداد کے قیام آئینہ دارہے:اردنی اخوان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کی حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت اخوان المسلمون نے مصر میں اپنی مادر جماعت پر پابندی عاید کرنے کے لیے عدالتی فیصلے کی مذمت کی ہے اور اس کو جبرواستبداد کے قیام کا آئینہ دار قراردیا ہے۔

اردنی اخوان المسلمون کے نائب سربراہ ذکی بنی رشید نے فیس بُک پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''مصر کے فوجی انقلابیوں نے عوام کے اعتماد کے حصول میں ناکامی کے بعد ان کی منشا کے منافی یہ فیصلہ کیا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''منتخب جمہوری صدر کا تختہ الٹنے والے انقلابی جبرواستبداد کے ساتھ ساتھ مطلق العنان فوجی حکمرانی کے قیام کی کوشش کررہے ہیں۔وہ حزب اختلاف کو خاموش کرانا چاہتے ہیں اور ہرکسی کو اپنا پیروکار بنانا چاہتے ہیں''۔

مصر کی ایک عدالت نے سوموار کو ملک کی سب سے منظم دینی و سیاسی قوت اخوان المسلمون اور اس کے بطن سے نکلنے والی تنظیموں اور جماعتوں کی ہرطرح کی سرگرمیوں پر پابندی عاید کردی ہے اور اخوان کے تمام اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیاہے۔

بنی رشید نے مصری عدالت کے اس فیصلے پر سخت الفاظ میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ''اس سے ظاہر ہوتا ہے فوجی حکمران شدید بحران سے دوچار ہیں۔وہ کمزور اور کنفیوژ ہیں۔نت روز فوجی بغاوت کا ایجنڈا زیادہ واضح ہوتا جارہا ہے اور ان فوجی انقلابیوں کے صہیونیت اور خلیج کے بعض ممالک سے روابط ہیں''۔

اردنی رہ نما نے کہا کہ ''ماضی میں مصر میں اسلام پسندوں پر پابندیاں عاید کی گئی تھیں لیکن اس سے انھیں مصری عوام کا اعتماد حاصل کرنے سے نہیں روکا جاسکا ہے''۔ان کا اشارہ مصر میں فروری 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی رخصتی کے بعد منعقدہ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں اخوان المسلمون کی واضح اکثریت سے کامیابی کی جانب تھا۔

مصری عدالت کا یہ فیصلہ مسلح افواج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت کے برطرف صدر محمد مرسی کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔عدالت نے حکومت کو اخوان المسلمون کے فنڈز منجمد کرنے اور ان کا انتظام سنبھالنے کا بھی حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ مصر کی ماضی کی حکومتوں نے اخوان المسلمون کو پچاسی سال تک کالعدم قراردیے رکھا تھا اور اسی سال مارچ میں اس کی غیر سرکاری تنظیم کے طور پر رجسٹریشن کی گئی تھی۔اخوان المسلمون نے فروری 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے حریت اور عدل کے نام سے نئی جماعت قائم کی تھی لیکن عدالتی حکم کے تحت اس جماعت پر بھی پابندی عاید کردی گئی ہے۔