.

مصری حکومت یا فوج سے تصادم حماس کے مفاد میں نہیں: ابو مرزوق

رفح کراسنگ کھول دی جائے تو سرنگوں کی ضرورت نہیں رہے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کی سرکردہ مزاحمتی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے مرکزی رہ نما اور تنظیم کے سیاسی شعبے کے سینئر رکن ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے کہا ہے کہ ان کی جماعت مصری فوج یا حکومت کے ساتھ تصادم کی راہ نہیں اپنائے گی۔ انہوں نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی کہ حماس جزیرہ نما سیناء کے پرتشدد واقعات کو ہوا دے رہی ہے یا براہ راست ان واقعات میں ملوث ہے۔

الجزائر کے اخبار"الفجر" کوایک انٹرویو میں ابومرزوق نے واضح کیا کہ ان کی جماعت مصری ریاست اور مسلح افواج کے ساتھ ٹکراؤ نہیں کرے گی کیونکہ ایسا کرنا حماس اور فلسطینی عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان خبروں کی بھی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ اخوان المسلمون کی حکومت کے خاتمے کے بعد حماس نے فوج کی نگرانی میں قائم حکومت سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے قطر سے ثالثی کی اپیل کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ حماس اور مصری حکومت میں کوئی قابل ذکر تناؤ نہیں ہے اور نہ ہی ان کی جماعت کی جانب سے کسی دوسرے ملک سے ثالثی کے لیے کہا گیا ہے۔ جزیرہ نما سیناء میں جاری کشیدگی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر ابو مرزوق نے کہا کہ "شورش زدہ علاقے میں کوئی بھی مذہبی تنظیم حتیٰ کہ القاعدہ، سلفی جہادی گروپ یا تکفیری جو بھی وہاں کارروائیاں کرتا ہے وہ اس کا ذمہ دار ہے۔

اسی سوال کو آگے بڑھاتے ہوئے حماس رہ نماء نے کہا کہ جزیرہ نما سینا میں بدامنی کی بڑی وجہ سیکیورٹی فورسز کی عدم موجودگی تھی۔ جزیرہ سینا میں ٹھکانے بنانے والے جہادی گروپوں کا پہلا ہدف امریکا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے اپنا رخ اسرائیل کی جانب کر دیا تھا۔

نہوں نے کہا کہ "میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ جزیرہ سینا میں پھیلنے والی شورش میں جہادی تنظیموں کے ساتھ اسرائیل بھی برابرکا قصور وار ہے"۔غزہ کی پٹی سے متصل سرحد پر"بفر زون" کے قیام کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مصرکو ایسا کرنے کا حق پہنچتا ہے مگر دو ملکوں کے درمیان ایسا اس وقت ہوتا ہے جب دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہوں۔ مصرطویل عرصے تک فلسطینی قوم کا محافظ رہا ہے اور ہم نے بھی کبھی مصری قوم سے دشمنی نہیں کی۔

غزہ کے محصورین تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں۔ اس کے باوجود بفرزون کا قیام سمجھ سے بالا تر ہے، لیکن مصر کواس کی مرضی سے روکا نہیں جاسکتا۔غزہ اور مصرکے درمیان سرحد پربنائی گئی سرنگوں کی بندش کے بارے میں ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے کہا کہ "یہ سرنگیں رفح کراسنگ کی بندش کے دوران سامان رسد کی ترسیل کا ایک متبادل راستہ ہیں۔

انسانی بنیادوں کے تحت تو غزہ کی تمام بیرونی راہداریوں کو کھلا ہونا چاہیے۔ اگر رفح کراسنگ مستقل طورپر کھول دی جائے تو فلسطینیوں کو سرنگوں جیسے مشکل راستوں سے سامان لانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ غزہ کی پٹی میں صنعت ہے، نہ ہی زراعت یا کسی قسم کا مقامی کاروبار ہے۔ سرحد بند ہو تو یہ سرنگیں محصورین شہرکے لے"لائف لائن" کا کام دیتی ہیں۔