.

بیروت: فوجی چوکیوں پر حزب اللہ کا قبضہ ختم، پولیس نے کنٹرول سنھبال لیا

44 میں سے 36 مقامات پر پولیس کی تعیناتی کے انتظامات مکمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوب میں شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقے میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے ایک مرتبہ پھرعلاقے کا کنٹرول سنھبال لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جنوبی بیروت کے شیعہ اکثریتی علاقوں کی 44 فوجی چوکیوں میں سے 36 کا کنٹرول فوری طورپرسیکیورٹی فورسز کےحوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے لیے پولیس نے انتظامات مکمل کرلیے ہیں۔

لبنانی سیکیورٹی حکام کے مطابق تبدیلی کا یہ عمل اب تک پرامن اندازمیں ہوا ہے اوراس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ پولیس ذرائع نے العربیہ نیوز چینل کو بتایا کہ جنوبی لبنان کی 36 اہم فوجی چوکیوں کی نگرانی کے لیے 12 افسر تعینات کیے گئے ہیں جو آج سے امن وامان کا کنٹرول سنھبال رہے ہیں۔ اگلے مرحلے میں مزید 8 چوکیوں پر بھی حزب اللہ کے سیکیورٹی گارڈز کا کنٹرول ختم ہوجائے گا اور جنوبی بیروت کے شورش زدہ علاقے ایک مرتبہ پھر سرکاری فورسز کے زیرکمان آ جائیں گے۔

خیال رہے کہ جنوبی بیروت میں اہل تشیع کے اکثریتی علاقوں پر حزب اللہ کے جنگجوؤں نے چند ہفتے قبل اس وقت کنٹرول حاصل کرلیا تھا جب ملک میں کئی خون ریز واقعات رونما ہوئے تھے۔ حزب اللہ کا کہنا تھا کہ دہشت گرد اس کے مرکز کونشانہ بنانا چاہتے ہیں اور سرکاری فورسز میں انہیں روکنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

اتوار کے روز لبنانی وزیر داخلہ مروان شربل نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ جنوبی بیروت میں اب حالات معمول پرآ چکے ہیں، اس لیے اب شہروں کا کنٹرول فوج اور پولیس کے حوالے کردیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی چوکیوں پرحزب اللہ کا کنٹرول ختم ہونے کے بعد امن وامان کا قیام اورتلاشی کی کارروائیوں کا اختیار صرف سیکیورٹی فورسز کے پاس ہوگا۔

مسٹرشربل نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی" اے ایف پی" کو بتایا کہ جنوبی بیروت میں امن وامان کے قیام کے لیے فوج کے آٹھ سو اہلکاروں کی ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں جنہوں نے کل سوموار سے اپنی خدمات انجام دینا شروع کردی ہیں۔