.

شامی باغیوں نے حزب اختلاف کے اتحاد کو مسترد کردیا

جنگجو اتحاد نے عبوری حکومت بھی ٹھکرادی،قیادت اسلام پسندوں کو دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کی افواج کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجو یونٹوں کے ایک گروپ نے مغرب کی حمایت یافتہ حزب اختلاف کی قیادت کو مسترد کردیا ہے اور اس کو ایک اسلامی فریم ورک کے تحت ازسرنو منظم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

شامی باغیوں کی جانب سے انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ ''تیرہ باغی دھڑوں اور گروپوں نے اس بیان کی توثیق کی ہے۔ان میں القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ،طاقتور اسلامی بٹالین احرارالشام اور توحید بریگیڈ شامل ہیں''۔

اس ویڈیو میں ایک بزرگ شخص ایک بیان پڑھ کر سنا رہا ہے جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ ''یہ قوتیں محسوس کرتی ہیں کہ ملک میں لوٹے بغیر بیرون ملک تشکیل پانے والے گروپ ان کی نمائندگی نہیں کرتے،اس لیے وہ ان کو تسلیم نہیں کریں گے۔شامی قومی اتحاد اور احمد طمعہ کی قیادت میں اس کی عبوری حکومت ملک کی نماِئندہ نہیں ہے،اس لیے اس کو تسلیم نہیں کیا جائے گا''۔

واضح رہے کہ شامی صدر بشارالاسد کے خلاف گذشتہ ڈھائی سال سے جاری مسلح عوامی تحریک کے دوران شامی حزب اختلاف کے مختلف گروپ منقسم رہے ہیں اور ان کے درمیان نظریاتی ،سیاسی ،مسلکی اور نسلی اختلافات پائے جاتے ہیں۔حزب اختلاف کی سیاسی قیادت بیرون ملک مقیم ہے یا وہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہی ہے ۔اس لیے ان میں سے بیشتر کا شام میں برسر زمین رونما ہونے والے واقعات سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔

اب شام میں بعد ازاسد نظام حکومت کے حوالے سے بھی سیکولر نظریات کی حامل سیاسی قیادت اور اسلام پسندوں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔اسلامی جڑیں رکھنے والے جنگجو گروپ ملک میں شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں جبکہ سیکولر قیادت سیکولر نظام حکومت کے قیام کی خواہاں ہے اور مغربی ممالک بھی اسی کی حمایت کررہے ہیں۔

جبکہ شام میں سرکاری فوج کے خلاف محاذآرا جنگجو گروپ بعد ازاسد اسلامی نظام کے نفاذ کی وکالت کررہے ہیں اور انھوں نے اس بیان میں بھی کہا ہے کہ ''یہ قوتیں تمام عسکری اور سویلین فورسز سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ شریعت کی بنیاد پر ایک واضح اسلامی فریم ورک کے تحت متحد ہوں''۔