.

عراق میں فرقہ وارانہ کشیدگی سے ہزاروں افراد کی نقل مکانی کا خدشہ

رواں سال پانچ ہزار عراقی گھربار چھوڑ گئے: یو این ہائی کمیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے پناہ گزین نےعراق میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر بڑھتے حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فرقہ واریت اور پرتشدد واقعات میں کمی نہ آئی توہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی "کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بحالی پناہ گزین"یو این ایچ سی آر" کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ رواں سال عراق میں فرقہ وارانہ لڑائیوں اور فسادات کی ایک غیرمعمولی لہر اٹھی ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم پانچ ہزار افراد ملک چھوڑنے پرمجبورہوئے ہیں۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر فرقہ وارانہ فسادات اسی طرح جاری رہے تو مزید ہزاروں افرد ملک چھوڑ سکتے ہیں۔

"یو این" رپورٹ کے مطابق ملک چھوڑنے کے علاوہ عراقی شہریوں کی بڑی تعداد دارالحکومت بغداد سے نکلنا شروع ہوگئی ہے۔ رواں سال میں سیکڑوں خاندان فرقہ وارانہ لڑائیوں کے بعد بغداد چھوڑ کر الانبار اور صلاح الدین صوبوں میں منتقل ہوئے۔ عراق میں سنہ 2006 تا 2008ء کے دوران میں ہونے فرقہ وارانہ کشیدگی سے گھر بار چھوڑنے والے 11 لاکھ 30 ہزار عراقی اب بھی دوسرے شہروں میں پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

درایں اثناء منگل کے روز عراق کے مختلف علاقوں میں مختلف پرتشدد واقعات میں 10 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت کم سے کم 25 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ رواں ماہ کے دوران عراق میں کئی پرتشدد واقعات رو نما ہوئے جن میں 630 عام شہری مارے گئے جبکہ رواں سال حملوں میں مرنے والے عراقیوں کی تعداد 4450 تک پہنچ چکی ہے۔