.

غزہ: القسام بریگیڈ کا شو آف پاور، مصر کے لیے"خاص" پیغام

نمائش میں جدید اسلحہ بھی دکھایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے محاصرہ زدہ شہرغزہ میں حکمراں جماعت اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے ملٹری ونگ عزالدین القسام شہید بریگیڈ نے تنظیم کی افرادی اور دفاعی قوت کے اظہار کے لیے ایک نمائش کا اہتمام کیا۔ نمائش میں مجاہدین کے پاس موجود جدید اسلحہ ڈسپلے کرنے کے ساتھ ساتھ "رابعہ العدویہ" کا سلوگن اختیار کیا گیا۔ اس نعرے کا مقصد مصرکی موجودہ حکومت کو کوئی "خاص" پیغام دینا تھا۔

خیال رہے کہ تین جولائی کو مصرکے سابق صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد اخوان المسلمون نے قاہرہ کے قریب "رابعہ العدویہ" گراؤنڈ میں دھرنا دیا تھا۔ فوج اور سیکیورٹی اداروں نے اخوانی دھرنا ختم کرنے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد مارے گئے تھے۔ بعد ازاں چارانگلیوں کے نشان پرمبنی تصویر یا ہاتھ کا اشارہ اخوان کی حمایت کی علامت کے طور پر مشہور ہو چکا ہے۔

العربیہ ٹی وی رکی رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی میں القسام بریگیڈ کے زیراہتمام منعقد کی گئی اس نمائش میں جدید اسلحہ بھی دکھایا گیا، جس میں SAM-7 جیسی جدید ترین مشین گنیں بھی شامل تھیں۔

اس موقع پر القسام بریگیڈ کے حامیوں اورکارکنوں نے ایک ریلی بھی نکالی جس میں انہوں نے ہاتھوں سے بھی"رابعہ" کا نشان بنا رکھا تھا اور چار انگلیوں والی تصویر پرمبنی پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے۔ مبصرین کے خیال میں القسام بریگیڈ کی جانب سے اسلحہ کی نمائش کے لیے جو وقت متعین کیا گیا وہ حماس اور مصرکے تعلقات کے حوالے سے نہایت نازک ہے۔ خاص طور پرالقسام کارکنوں کی جانب سے "رابعہ" کو بطور سلوگن اختیار کرنے سے مصر کی موجودہ فوجی حکومت مشتعل ہو سکتی ہے۔

دو روز قبل ہوئی اس نمائش میں حماس حکومت کے وزیراعظم اور تنظیم کے سیاسی شعبے کے نائب صدراسماعیل ھنیہ بھی موجود تھے۔ انہوں نے نمائش کو سراہا لیکن حماس کے مرکزی رہ نما ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے اس نوعیت کی سرگرمیوں کی مخالفت کی ہے۔

گوکہ اس نوعیت کی سرگرمیوں یا طاقت کے اظہار کا مقصد تو اسرائیل کو پیغام دینا ہوتا ہے، لیکن ایسے لگ رہا ہے کہ یہ نمائش اسرائیل کے لیے نہیں بلکہ مصرکے لیے ایک پیغام تھی۔ حماس اور اسرائیل کے درمیان فائر بندی معاہدہ قائم ہے ، جس کے ہوتے ہوئے اس نوعیت کی نمائش کی منطق قابل فہم ہو بھی نہیں سکتی۔ "رابعہ" کے سلوگن نے حماس اور مصرکی موجودہ فوجی حکومت کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے کئی قسم کے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

حماس اور مصرکی اسلام پسند سابق حکمراں جماعت اخوان المسلمون کے درمیان بہت سی قدر ہائے مشترک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے ایک سالہ دورحکومت میں غزہ کی پٹی کے لیے مصرکے راستے کھلے رہے ہیں۔ تین جولائی کے فوجی اقدام کے بعد غزہ اور مصرکے درمیان شہر کی واحد بین الاقوامی گذرگاہ "رفح" بھی بند کر دی گئی ہے۔