.

کیمیائی معائنہ کار 14 واقعات کا جائزہ لینے شام پہنچ گئے

حتمی رپورٹ ماہ اکتوبر کے اواخر میں اقوام متحدہ کو پیش کی جائیگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے کیمیائی معائنہ کاروں کی ٹیم تقریبا تین ہفتے کے وقفے کے بعد بدھ کو دوبارہ شامی دارالحکومت دمشق پہنچ گئی ہے ۔ کیمیائی اسلحے کے ماہرین کی اس ٹیم کی قیادت ایکے سیلسٹروم کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اب کی بار یہ معائنہ کار شام میں ڈھائی سالہ خانہ جنگی کے دوران مبینہ طور پر 14 مختلف مقامات پر استعمال کیے گئے کیمیائی ہتھیاروں کی شکایات کا جائزہ لیں گے۔ امکانی طور پر ماہ اکتوبر کے اواخر میں اس بارے میں حتمی رپورٹ سامنے آسکے گی۔

اس سے پہلے 21 اگست کو دمشق کی نواحی علاقے غوطہ میں زہریلی گیس سارین کے استعمال کے واضح ثبوت سامنے آچکے ہیں ، تاہم یو این معائنہ کاروں کے سربراہ کے مطابق ماہ ستمبر کے شروع میں سامنے آنے والی رپورٹ ابتدائی نوعیت کی رپورٹ تھی ۔ ابھی دیگر الزامات کی تحقیق ہونا باقی ہے۔

واضح رہے ماہ مارچ کے دوران دونوں طرف سے ایک دوسرے کے خلاف اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو شکایات موصول ہوئی تھیں ۔ ان میں تقریبا 14 شکایات کے حوالے سے ابھی تحقیقات ہونا باقی ہیں۔ یو این معائنہ کاروں کے سربراہ نے ایک عالمی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ امید ہے کہ ماہ اکتوبر کے اواخر تک شام میں ابتک کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں حتمی رپورٹ تیار کر کے اقوام متحدہ کو پیش کر دی جائے گی۔

اس سے پہلے 21 اگست کے سانحے کے حوالے شامی باغیوں کے علاوہ امریکا اور اس کے اتحادی بھی شامی حکومت کو ذمہ دار قرار دے چکے ہیں جبکہ شام اس سے انکاری ہے۔ البتہ شام نے روس کے توسط سے اپنے کیمیائی ہتھیار بین الاقوامی برادری کے سپرد کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔