.

''جنگ ایک عظیم کاروبار'' مگر صرف اسلحہ بیچنے والوں کیلیے

خوشحالی اور غربت جنگ بیک وقت دونوں کو جنم دیتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملکوں کی سطح پر دہائیوں سے جنگیں بڑی طاقتوں کے لیے منافع بخش کاروبار رہی ہیں لیکن شام میں جاری خانہ جنگی بہت سے عام لوگوں کے لیے بھی مفید کاروبار بن گئی ہے۔ شام میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقے حلب میں ، ترکی ، عراق، اور روس کے بنے ہوئے اسلحے کے کاروبار نے باغیوں کے حامی اسلحہ فروشوں کو مالا مال کر دیا ہے۔

اس کاروبار کے منفعت بخش ہونے کے باعث حلب میں اسلحہ ڈیلر کھلے عام اس دھندے میں مصروف ہیں۔ یوں اسلحے کا یہ استعمال جس طرح عالمی سطح پر ایک جانب تباہی و ہلاکت لاتا ہے اور دوسری طرف بعض ملکوں کی معیشت کو مضبوط تر کرتا ہے شام میں بھی اس کی بدولت عوامی سطح پر تباہی کے ساتھ ساتھ خوشحالی اور غربت دونوں کا جنم ہو رہا ہے۔

حلب کا ابو محمد آتشیں اسلحے جن میں راکٹ پروپیلڈ گرینیڈز اور تلواریں بھی شامل ہیں بیچ بیچ کر مزے کی زندگی گزارنے کے قابل ہو گیا ہے، جنگ زدہ علاقے میں خوشحالی کی منزلیں طے کرنے والے اس شامی کو امن سے زیادہ جنگ سے محبت ہو گئی ہے اسی لیے اس کا کہنا ہے ''جنگ ایک عظیم کاروبار ہے ۔''

اسلحے کی دکان کے کاونٹر پر متعدد ہینڈ گرینیڈ سجائے اس خوشحال کاروباری ابو محمد کا کہنا ہے کہ'' میں باغیوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں کیونکہ ان کے پاس اسلحہ اور بارود نہیں ہے ۔'' انتالیس سالہ دکاندار کے مطابق وہ ایک دن میں پچاس ہزار شامی پاونڈز کا بزنس کر رہا ہے۔

ابو محمد نے یہ دکان اسی سال کے شروع میں کھولی ہے کہ وہ نو ماہ پہلے باغیوں کی طرف سے لڑتے ہوئے اس کی ٹانگ متاثر ہو گئی تھی ۔ اس نے دکان کی دیواروں پر نائن ایم ایم اور اے کے 47 سمیت مختلف ہتھیاروں کو آویزاں کر رکھا ہے۔ ابو محمد کا بیس سالہ بیٹا باغی فوج کا حصہ بھی ہے اور اپنے باپ کا دکان پر ہاتھ بھی بٹاتا ہے۔

ان کی دکان پر موجود اسلحے میں روس اور عراق کا بنا ہوا اسلحہ بھی شامل ہے۔ دکاندار کے بیٹے محمد کا کہنا ہے کہ ان کی دکان پر فوجی یونیفارم ، فوی جوتے ، گیس ماسکس اور واکی ٹاکیز سمیت تقریبا ہر طرح کا جنگی سامان دستیاب ہے۔ محمد کہتا ہے اسے اسلحے سے محبت ہے۔

اتنتالیس سالہ محمد آسی نامی شہری اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کراپنی رائفلز کے لیے گولیاں خریدنے آیا تو اس نے 15000 شامی پاونڈز کے بدلے میں ایک سو پچاس راونڈز خریدے ۔ گویا اسے ایک گولی کی قیمت ایک سو شامی پاونڈز ادا کرنا پڑی۔

ابو محمد کا کہنا ہے کہ جب باغیوں نے فوجی بیس کا محاصرہ کیا تو اس کی دکان کا سارا سارا اسلحہ صاف کر گئے۔ اس کے مطابق شام میں کچھ ایسے گاہک بھی موجود ہیں جو ٹیلی سکوپ چاہتے ہیں تاکہ سنائیپرز کو دیکھ سکیں۔ اسی دوران ایک شخص تین تلواریں اٹھائے ہوئے آیا اور ابو محمد نے ان کی دھار کے تیز اور وار کے کاری ہونے کے بارے میں اپنی رائے دی۔

دکان پر ایسے لوگ بھی آتے ہیں جو اپنا سلحہ فروخت کر کے پیسہ بنانا چاہتے ہیں ابو محمد کے مطابق جنگ شروع ہونے سے پہلے جن لوگوں نے شوق کی وجہ سے اسلحہ رکھا تھا مگر استعمال کبھی نہیں کیا تھا انہوں اس موقع پر اسے فروخت کر کے پیسہ کمایا ہے۔

ابو محمد اپنی کاروباری مہارتوں کا ذکر کرتے ہوئے خوش تھا کہ جنگ ایک عظیم کاروبار ہے لیکن یہ رائے اس شخص کی تو ہو سکتی ہے جو اسلحہ بیچ کر ڈالروں میں اضافہ کر رہا ہو ایسے لوگوں کیلیے ہرگز نہیں جو ان مہلک ہتھیاروں کا نشانہ بنتے ہوں