.

مصر:اخوان المسلمون کے اخبار کے صدر دفاتر کی تالا بندی

سکیورٹی حکام نے عدالتی حکم کے تحت اخبار بند کرکے صحافیوں کو چلتا کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری حکام نے قاہرہ میں اخوان المسلمون کے اخبار ''حریت والعدالۃ'' کے ہیڈکوارٹرز کو تالا لگادیا ہے اور وہاں کام کرنے والے صحافیوں کو چلتا کیا ہے۔

اخوان المسلمون نے اپنے فیس بُک صفحے پر بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم روزنامہ حریت والعدالۃ میں کام کرنے والے صحافی اخبار کے ہیڈکوارٹرز کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں بندش کی مذمت کرتے ہیں''۔

پولیس نے منگل کی رات اخوان کے اخبار کے صدر دفاتر پر دھاوا بولا تھا اور اس کو بند کردیا تھا۔قاہرہ میں محکمہ سکیورٹی کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ اخبار کے خلاف چھاپہ مار کارروائی سوموار کے عدالتی فیصلے کے تحت کی گئی ہے۔

سکیورٹی ذریعے نے اس آپریشن کی وجوہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ''ماضی قریب میں تشدد اور دہشت گردی کو ہوا دینے کے الزامات پر اخبار کے خلاف کارروائی کے لیے عدالتی حکم جاری کیا گیا تھا''۔

مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں 3 جولائی کو منتخب جمہوری صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے اخوان المسلمون کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے۔اس دوران روزنامہ حریت والعدل سے وابستہ پچاس ساٹھ صحافی خفیہ رہ کراخبار کو تیار کرکے شائع کرتے رہے ہیں تاکہ وہ گرفتاری سے بچ سکیں۔

اس اخبار کا نام اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ ''حریت والعدل'' جماعت کے نام پر ہی رکھا گیا تھا۔اخبار میں منتخب حکومت کی برطرفی کی مخالفت کی جارہی تھی اور فوجی اقدام کو واپس لینے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔اس کی خبروں اور ادارتی تحریروں کا موضوع خاص یہی پہلو ہوتا تھا۔

مصر کی ایک عدالت نے گذشتہ سوموار کو ملک کی سب سے منظم دینی و سیاسی قوت اخوان المسلمون اور اس کے بطن سے نکلنے والی تنظیموں اور جماعتوں کی ہرطرح کی سرگرمیوں پر پابندی عاید کردی تھی اور اخوان کے تمام اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا تھا۔

مصری عدالت کا یہ فیصلہ مسلح افواج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت کے برطرف صدر محمد مرسی کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔عدالت نے حکومت کو اخوان المسلمون کے فنڈز منجمد کرنے اور ان کا انتظام سنبھالنے کا بھی حکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ مصر کی ماضی کی حکومتوں نے اخوان المسلمون کو پچاسی سال تک کالعدم قراردیے رکھا تھا اور اسی سال مارچ میں اس کی غیر سرکاری تنظیم کے طور پر رجسٹریشن کی گئی تھی۔اخوان المسلمون نے فروری 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے حریت اور عدل کے نام سے نئی جماعت قائم کی تھی لیکن عدالتی حکم کے تحت اس جماعت پر بھی پابندی عاید کردی گئی ہے حالانکہ اس نوزائیدہ جماعت نے گذشتہ دوسال کے دوران ملک میں ہونے والے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کی تھی اور اس کو عوام نے بھرپور پذیرائی بخشی تھی.