شام کے خلاف امریکی جارحیت خارج از امکان نہیں: بشارالاسد

کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف کنونشن پرعمل درآمد کے پابند ہیں: ٹی وی انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی صدر بشارالاسد کا کہنا ہے کہ ان کا ملک کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف کنونشن پرعمل درآمد کا پابند ہے لیکن اس کے باوجود ان کے رجیم کے خلاف امریکی حملہ خارج از امکان نہیں ہے۔

انھوں نے یہ بات وینزویلا کے ایک ٹی وی چینل ٹیلی سر کے ساتھ جمعرات کو نشر ہونے والے انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکا اور روس کے درمیان شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو ٹھکانے لگانے کے لیے طے پائے معاہدے پر ان کی جانب سے عمل درآمد میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہے اور شام ان تمام معاہدوں پر عمل درآمد کا پابند ہے جن پر اس نے دستخط کیے ہیں۔

بشارالاسد نے کہا کہ ''کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق امریکا ،روس معاہدے سے شام پر امریکی فوج کا حملہ رک تو گیا ہے لیکن جارحیت کا ہمیشہ امکان رہتا ہے۔اس مرتبہ اس کا پیشگی جواز کیمیائی ہتھیار ہیں۔اگلی مرتبہ کوئی اور جواز ہوگا''۔

انھوں نے امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ پر جعل سازی اورجھوٹ کا الزام عاید کیا اور بتایا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) کے ماہرین آیندہ دنوں میں شام آئیں گے اور وہ ان کے کیمیائی ہتھیاروں کی نوعیت اور حیثیت کو ملاحظہ کریں گے۔

بشارالاسد نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ''شامی حکومت کی طرف سے تو ماہرین کے کام میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہوگی لیکن اس بات کا ہمیشہ سے امکان ہے کہ دہشت گرد ماہرین کے کام میں رکاوٹ ڈالیں گے اور وہ انھیں مختلف مقامات تک جانے سے روک سکتے ہیں''۔ان کا اشارہ شامی فوج کے خلاف محاذآراء باغی جنگجوؤں کی جانب تھا جنھیں شامی حکومت دہشت گرد قرار دیتی چلی آرہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اقوام متحدہ کے ماہرین آزادانہ معائنے کا کام کرسکیں۔انھوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ ان کی حکومت نے ہی انھیں شام میں آنے کی دعوت دی ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ''ہم نے انھیں مارچ میں شام آنے کی دعوت دی تھی تب دہشت گردوں نے شمالی شہر حلب کے نواح میں زہریلی گیس کا استعمال کیا تھا''۔واضح رہےکہ شامی حکومت نے 21 اگست کو دمشق کے نواحی علاقے الغوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے اظہار لا تعلقی کیا ہے جبکہ باغی جنگجوؤں نے بھی سیرین گیس کے اس حملے سے لا تعلقی ظاہرکی تھی۔اس حملے میں قریباً چودہ سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

جب ان سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی شام کے خلاف پابندیوں یا فوجی طاقت کے استعمال سے متعلق مجوزہ قرارداد کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ان کے ملک کو اس حوالے سے کوئی تشویش لاحق نہیں ہے کیونکہ آج سلامتی کونسل متوازن ہے۔ان کا اشارہ روس اور چین کی جانب تھا جو اس سے پہلے بھی شام کے خلاف امریکا اور مغربی ممالک کی پیش کردہ تین قراردادوں کو ویٹو کر چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں