آزاد فلسطینی ریاست کے پہلو میں اسرائیل کو تسلیم کیا جا سکتا ہے: روحانی

ایرانی موقف میں پہلی مرتبہ غیر معمولی تبدیلی کا بالواسطہ اشارہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک مسئلہ فلسطین کا ایک ایسا حل قبول کرسکتا ہے جو فلسطینی عوام کے لیے بھی قابل قبول ہو۔ صدر روحانی کے بقول "ایک آزاد اور مکمل خود مختار فلسطینی ریاست کے پہلو میں اسرائیل کو بھی تسلیم کیا جا سکتا ہے۔"

واضح رہے کہ اصلاح پسند ایرانی صدر کی جانب سے پہلا موقف ہے جس میں اسرائیل کو بالواسطہ طور پر تسلیم کیے جانے کا اشارہ دیا گیا ہے۔ اس سے قبل ایران، اسرائیل کو "صفحہ ہستی سے مٹانے" کے سوا کوئی دوسرا لفظ استعمال نہیں کرتا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صدر روحانی نے یہ بات جمعہ کو نیویارک میں امریکی کونسل برائے بین الاقوامی تعلقات کے ارکان سے خطاب میں کی۔ تقریب کے دوران ایرانی صدر سے مشرق وسطیٰ میں قیام امن اور دو ریاستی حل کے لیے جاری بات چیت سے متعلق سوال پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا کہ "میرے خیال میں اپنے مستقبل کے بارے میں فلسطینیوں کو فیصلہ خود کرنا ہوگا۔ عالمی برادری کو بھی فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کرنا ہوگی۔ تنازع کا جو حل فلسطینیوں کے لیے قابل قبول ہوگا، وہ ایران کے لیے قابل تسلیم ہوسکتا ہے"۔

مبصرین کے خیال میں ایرانی صدر نے مشرق وسطٰی کے تنازع سے متعلق ماضی کے برعکس موقف کا اظہار کرکے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ ان کا ملک مسئلے کے دو ریاستی حل کو مشروط طور پر تسلیم کرسکتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ایران، آزاد فلسطینی مملکت کے پہلو میں اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرے گا۔

نیویارک میں جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے لیے امریکا پہنچنے کےبعد ایرانی صدر کا یہ دوسرا قابل ذکر بیان ہے۔ گذشتہ منگل کو امریکی ٹی وی "سی این این" کو انٹرویو میں انہوں نے ہولوکاسٹ کی مذمت کی تھی، لیکن ان کے پیش رو محمود احمدی نژاد متعدد مرتبہ سرے سے ہولوکاسٹ ہی کا انکار کرچکے ہیں۔ صدر روحانی کا کہنا تھا کہ قتل عام چاہے جس کا ہو قابل مذمت ہے چاہے وہ نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں ہی کا کیوں نہ ہوا ہو۔ میرے نزدیک تمام انسان برابر ہیں۔ میں مسلمان، عیسائی اور یہودی میں فرق نہیں کرتا"۔

ایرانی صدر کے موقف میں تہران۔ واشنگٹن سرد جنگ کو ختم کرنے کے بھی واضح اشارات ملے ہیں۔ اصلاح پسند صدر نے ماضی کے برعکس قدرے لچک اور نرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان سفارت کاری بڑھانے پربھی بات کی۔

خیال رہے کہ اسرائیل کے بارے میں ایران کی پالیسی میں تبدیلی سے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا تاہم ایرانی حکومت کے عہدیداروں کی زبان وبیان میں لچک ضرور آئی ہے۔ اس سے قبل ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف سماجی رابطے کی ویب سائیٹ "ٹیوٹر" پر یہودیوں کو عبرانی سال نو کی مبارک باد اور ان کے لیے اپنی نیک تمناؤں کا بھی برملا اظہار کرچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں