سعودی مذہبی پولیس پر ہلاکت خیز حادثے میں ملوث ہونے کا الزام

سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر شدید مگر منقسم ردعمل کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے صدر مقام ریاض میں مذہبی پولیس کے مبینہ تعاقب کے نتیجے میں حادثے کا شکار ہونے والے دو سعودی نوجوانوں کے انتقال کی خبر پھیلنے کے بعد سے سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر عوامی حلقے شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

حادثے کے بعد مذہبی پولیس کےاہلکاروں کے فرار پر عوامی حلقوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے، جس کے بعد حادثے کا باعث بننے والے ھیئہ کے اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔


ایک عینی شاہد کی جانب سے حادثے کی وڈیو ٹیوٹ کے بعد یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلتی گئی۔ عینی شاہد نے اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ،"امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اہلکاروں نے قومی دن کے موقع پر دو افراد قتل کردیئے۔"

اس واقعہ پر عوامی ردعمل بہت شدید تھا مگر لوگوں کی آراء تقسیم تھی۔ ایک جانب وہ لوگ تھے جو کہ مذہبی اتھارٹی کے حامی ہیں اور دوسری جانب اس کے مخالفین کی آراء تھیں۔

سعودی عرب کی مذہبی پولیس یعنی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو عرف عام میں"ھیئہ" [کمیٹی] کے نام سے موسوم کیا جاتا۔ سماجی ویب سائیٹ ٹویٹر استعمال کرنے والے شخص کا کہنا تھا کہ"مذہبی پولیس نے مدینہ، تبوک اور بالجرشی میں عوام کا قتل کیا اور اب انہوں نے قومی دن کے موقع پر ریاض میں یہی واقعہ دہرایا ہے۔ 'ھیئہ' خون کی پیاسی ہے۔"

ایک اور شخص "@Nejer" نے لکھا کہ"ھیئہ کی حالت سعودی حکومتی اداروں میں سے اکثر کی حالت جیسی ہے۔ ان کے اصلاح احوال کی شدید ضرورت ہے ۔"

جبکہ اس کے برعکس ایک صارف "@I_7rh" نے لکھا ہے کہ "ہم یقینی طور پر ھیئہ سے اس لئے پیار کرتے ہیں کیوںکہ وہ اسلامی قوانین کا نفاذ کرتے ہیں اور غلط کام کرنے والوں کو روکتے ہیں۔ اسی لئے جو لوگ بھی غلط کام کریں گے خواہ ھیئہ کے ہی ممبران کیوں نہ ہوں انہیں قانون کے دائرے میں لایا جائے گا۔"

"@GhaidaAbdulaziz" کا کہنا ہے کہ "اس واقعہ کے کوئی ٹھوس شواہد نہیں ہیں اور مجھے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ یہ صرف چکما دینے کی کوشش ہے تو میں سب سے یہی کہوں گا کہ آپ ھیئہ کے امیج کو خراب کرنا بند کردیں۔"

اطلاعات کے مطابق مذہبی پولیس کے ممبران نے ایک گاڑی میں بیٹھے دو افراد کا پیچھا کرنا شروع کیا جس کی وجہ سے ان کی گاڑی بے قابو ہوکر الٹ گئی اور اس میں سوار ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ واقعے کے بعد مذہبی پولیس کے دونوں اہلکار جائے حادثہ سے فرار ہوگئے مگر انہیں بعد میں حراست میں لے لیا گیا اور اب ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

سعودی عرب کے موقر انگریزی روزنامے 'سعودی گزٹ' کے مطابق ھئیہ کے معاون ترجمان محمد الشرائمی کا کہنا ہے کہ تفتیش ابھی جاری ہے اور حادثے اور سعودی شہری کی ہلاکت کے ذمہ داروں کو قانون کے دائرے میں لایا جائے گا۔

حادثے کے ایک عینی شاہد محمد الصحابی کا کہنا ہے کہ ھیئہ کے اہلکاروں کی گاڑی نے عمدا چھوٹی گاڑی کو عقب سے ٹکر ماری۔ اس کے نتیجے میں گاڑی پھسلتی ہوئی سڑک سے نیچے اتر گئی اور پل سے نیچے گر کر پلٹ گئی جبکہ ھیئہ کے اہلکار وہاں سے فرار ہوگئے۔ الصحابی کے مطابق گاڑی کے ڈرائیور کا سر بری طرح کچلا گیا تھا جس سے یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ حادثے کے اثر کی وجہ سے ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔

ٹویٹر صارف تعکی غابیوی لکھتے ہیں کہ،"ہمیں گناہ کرنے والوں اور نشانہ بننے والے کا علم ہے، اب ہمیں صرف اسلامی قانون کو اطلاق کرنا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں