امریکا، ایران میں جمہوری نظام کی بساط نہیں لپیٹ سکتا: پاسداران انقلاب

"روحانی کے رویے سے اصلاح پسندوں کو مایوس ہوئی"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایرانی پاسداران انقلاب کے سرکردہ عہدیدار جنرل قاسم سلیمانی نے کہا ہے کہ امریکا، تہران میں اسلامی جمہوری نظام کی بساط لپیٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے گذشتہ منگل کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جو لب و لہجہ اختیار کیا ہے اس سے ایران کے سامنے امریکی پسپائی واضح ہو رہی ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر باراک اوباما نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ملک ایران میں جمہوری نظام تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔ امریکی صدر کے اسی بیان کے ردعمل میں پاسداران انقلاب کے بیرون ملک سرگرم القدس بریگیڈ کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی نے کہا کہ "امریکی خود ہمارے سامنے پسپائی اختیار کر رہے ہیں۔ ایران میں اسلامی جمہوری نظام تبدیل کرنے کی صلاحیت امریکا میں کبھی تھی اور نہ ہی آئندہ ایسا ہوسکتا ہے"۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کے اعلی فوجی عہدیدار نے ان خیالات کا اظہار جنوبی شہر کرمان میں "عراق۔ ایران" جنگ کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے امریکیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "ایران کے نظام حکومت کو تبدیل نہ کرنے کی تمہاری باتیں حیرت انگیز نہیں ہیں۔ یہ ہمارے سامنے آپ کی پسپائی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ تم لوگ ماضی میں ایسا نہیں کر سکے ہو اور نہ ہی آئندہ ایسا کرنے کی جرات کر سکتے ہو"۔

جنرل قاسم سلیمانی نے کہا کہ "امریکی صدر باراک اوباما کہہ رہے ہیں کہ وہ ایران میں نظام حکومت بدلنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ میں یہ پوچھتا ہوں کہ امریکی ایسا کر ہی کب سکتے تھے؟ آج تک واشنگٹن، ایران میں اپنی مرضی کی حکومت لانے کی کوششیں کرتا رہا ہے لیکن وہ اس میں بری طرح ناکام رہا ہے"۔ ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکا نے آج سے 35 سال قبل ہماری قوم کے خلاف سخت ترین اقدامات کی پالیسی اپنائی۔ ہمارے دشمنوں سے تعاون کیا۔ ایرانی قوم کو یاد ہے کہ امریکا ان کے ساتھ کیا کرتا رہا ہے۔ ان کا اشارہ عراق ایران جنگ کی جانب تھا، جس میں مبینہ طور پر سابق امریکی صدر جارج بُش سینیئر نے ایران کے خلاف جنگ میں عراق کے صدام حسین کا ساتھ دیا تھا۔

درایں اثناء ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر اعلیٰ برائے عسکری امور جنرل یحییٰ رحیم صفوی نے امریکی صدر کے جنرل اسمبلی سے خطاب کو"مثبت" قرار دیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں جنرل صفوی کا کہنا تھا کہ صدر باراک اوباما نے اپنی تقریر میں ایران کے حوالے سے وقف میں تبدیلی کا اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکیوں کو اب یہ اندازہ ہو چلا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ پنجہ آزمائی نہیں کرسکتے، لیکن ایران اپنے موقف پر قائم ہے کیونکہ امریکیوں کی گردنوں پر ایرانی قوم کا قرض ابھی باقی ہے"۔

ایرانی سیاست پر نگاہ رکھنے والے دانشورں نے اصلاح پسند صدر حسن روحانی کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران کی گئی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے اصلاح پسندوں کے لیے مایوس کن قرار دیا ہے۔ تجزیہ نگارں کا خیال ہے کہ اصلاح پسندوں کوامید تھی کہ صدر روحانی امریکی دورے کے دوران ماضی سے برعکس قدرے لچک کا مظاہرکریں گے لیکن انہوں نے اپنی تقریر میں وہی انداز اپنایا جو ماضی میں سخت گیرسربراہان مملکت کی جانب سے اپنایا جاتا رہا ہے۔

اصلاح پسندوں کے حامی سمجھے جانے والے ایرانی تجزیہ نگار"زیبا کلام" نے ایک انٹرویو میں کہا کہ صدر روحانی ملک کے قدامت پسندوں اور پاسداران انقلاب کی مقرب لابی کے ساتھ الجھنا نہیں چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وہ موقف اختیار کیا جو سابق صدر محمود احمدی نژاد اختیار کیا کرتے تھے۔

مسٹر کلام کا کہنا تھا کہ صدر روحانی کوعالمی فورم سے خطاب سے زیادہ اس بات کی فکر دامن گیر رہی کہ وہ ایران کے سخت گیرمقتدر حلقوں کی آشیر باد کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟ اس لیے انہوں نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایرانی قدامت پسندوں کو مایوس نہیں کیا ہے تاہم ان کی تقریر سے اصلاح پسندوں میں مایوسی ضرور پھیلی ہے۔اس امرکا اندازہ ایران کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل فیروز آبادی کے بیان سے بھی ہو رہا ہے۔

خبر رساں ایجنسی "فارس" سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر فیروز آبادی کا کہنا تھا کہ "صدر حسن روحانی نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وہی کچھ کہا ہے کہ جو انہیں کہنا چاہیے تھا۔ ہم ان کے موقف کی تائید کرتے ہیں۔ صدر نے جنرل اسمبلی میں دانشمندی کا مظاہرہ کیا اور سپریم لیڈر [آیت اللہ خامنہ ای] کی ہدایت کے مطابق امریکی تکبر و غرور کے سامنے ڈٹ کر ایرانی مفادات کا دفاع کیا ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں