اسرائیلی فوجی کی پٹائی: فرانسیسی سفارتی مہم قبل از وقت ختم

سفارتی مشن بے گھر فلسطینیوں کی مدد کے لیے بھیجا گیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل کے ایک سفارتی ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ فلسطینیوں کی امدادی سرگرمیوں میں مصروف فرانسیسی سفارت کاروں کو اپنی مہم وقت سے پہلے ختم کرکے وطن واپس بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

فرانسیسی امدادی کارکنوں کی واپسی مقبوضہ مغربی کنارے میں چند روز قبل اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ پیش آئے ایک ناخوش گوار واقعے کا نتیجہ بتائی جا رہی ہے، جس میں صہیونی فوجیوں نے مبینہ طور پر یورپی امدادی قافلے کو روک کر امدادی کارکنوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے ردعمل میں ایک خاتون سفارت کار نے اسرائیلی فوجی کی پٹائی کردی تھی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کے مطابق اسرائیلی سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ پیرس اور تل ابیب دونوں نے امدادی کارکنوں کی واپسی پر اتفاق کیا ہے، تاہم ان کی واپسی کی تاریخ کو صیغہ رازمیں رکھا گیا ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ بیت المقدس کے فرانسیسی قونصل خانے سے وابستہ امدادی سرگرمیوں کی نگران خاتون سفارت کار ماریون فسنو کاسٹن اپنا سامان سمیٹنے کی تیاری کر رہی ہیں، انہیں جلد ہی اپنے ملک میں بھجوا دیا جائے گا۔ تاہم ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ امدادی مشن کی واپسی کب ہوگی؟۔

خیال رہے کہ فسنو کاسٹن کی سربراہی میں یورپی یونین کا ایک امدادی مشن اسرائیل کی جانب سے مکانات سے محروم کیے گئے فلسطینیوں کی مدد کے لیے آیا تھا۔ بیس ستمبر کو وادی اردن کے قریب بے مکحول کے مقام پر بے گھرکیے گئے فلسطینیوں کے لیے خیمے اور دیگرسامان لے جاتے ہوئے اسرائیلی فوج نے انہیں روک کرسامان قبضے میں لے لیا تھا۔ اس موقع پر صہیونی فوجیوں نے دست درازی کرتے ہوئے ایک یورپی خاتون سفارت کار کو ٹرک سے کھینچ کر نیچے اتارا تو وہ گر پڑی تھیں۔ اس نے اٹھتے ہی ایک اسرائیلی فوجی کو تھپڑ بھی رسید کیا اور ساتھ صہیونی فوج کے طرز عمل کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

بعد ازاں اس سارے ناخوشگوار واقعے اور اسرائیلی فوجی کی پٹائی کی ایک مختصرکی ویڈیو فوٹیج انٹرنیٹ پربھی نشر کی گئی تھی۔ سفارت کاروں کی تذلیل کرنے پریورپی یونین نے اسرائیل سے سخت احتجاج کرتے ہوئے واقعے میں ملوث فوجیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ صہیونی وزارت خارجہ کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کو فرانسیسی سفارت کار کے ساتھ فوجیوں کی مبینہ بدتمیزی پر افسوس ہے اور تل ابیب نہیں چاہتا کہ اس طرح کے واقعات دونوں دوست ملکوں کے درمیان ناراضگی کا باعث بنیں۔ حکومت نے واقعے کی انکوائری شروع کرا دی ہے۔

واضح رہے کہ سولہ ستمبرکو وادی اردن کے مکحول قصبے میں اسرائیلی فوج نے صہیونی سپریم کورٹ کی ہدایت پر فلسطینی شہریوں کے کئی مکانات کو بلڈوز کردیا تھا جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد کھلے آسمان تلے زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ چوبیس ستمبر کو اسرائیلی سپریم کورٹ نے فوج کو علاقے میں مزید مکانات گرانے اور فلسطینی شہریوں کی منتقلی سے روک دیا تھا۔ اسی ماہ فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے دورے کا بھی اعلان کیا تھا۔ تاہم سفارت کاروں کے ساتھ پیش آنے والے غیرمہذب واقعہ کے بعد یہ دورہ ملتوی ہوسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں