ایرانی صدر پر امریکا مخالف مظاہرین نے جوتا اچھال دیا

واقعہ تہران واپسی پر مہرآباد ائر پورٹ کے باہر پیش آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی صدر حسن روحانی کا امریکا میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے بعد تہران واپسی پر سخت گیر اسلام پسندوں نے امریکا مخالف نعروں اور ان کی کار پر جوتا اچھال کر 'استقبال کیا۔ بادی النظر میں مظاہرین صدر روحانی کی امریکی صدر باراک اوباما سے فون پر گفتگو کی وجہ سے نالاں تھے۔

تہران واپسی پر صدر حسن روحانی کو مہرآباد کے ہوائی اڈے پر عوام کے ملے جلے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق تقریبا ساٹھ سخت گیر اسلام پسندوں نے ائیر پورٹ سے حسن روحانی کی گاڑی کے باہر نکلنے پر "مرگ بر امریکا" اور "مرگ بر اسرائیل" کے نعرے لگا رہے تھے۔

مظاہرین کے علاوہ 200 سے 300 افراد وہ بھی تھے جو کہ ایرانی صدر کی حمایت میں ائیرپورٹ پر آئے ہوئے تھے۔ صدر کے حامیوں نے "شکریہ روحانی" کے نعروں سے ان کا استقبال کیا۔

رپورٹ کے مطابق جس وقت صدر روحانی کی گاڑی پر جوتا پھینکا گیا اس وقت وہ صدارتی موٹر کیڈ میں شامل اپنی گاڑی کی روف ٹاپ سے باہر نکل کر استقبال کرنے والوں کے نعروں کا جواب دے رہے تھے، مگر جوتا روحانی کی گاڑی کے قریب سے گزرتا ہوا دوسری جانب جا گرا گیا۔

یاد رہے کہ ایرانی صدر نے نیویارک سے تہران واپسی سے قبل باراک اوباما سے 15 منٹ ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ گذشتہ تیس برسوں کے دوران دونوں ملکوں کی قیادت کے درمیان یہ پہلا رابطہ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں